Poetry
Poet
Meter
- کوئی ارمان مرے دل کا نکلنے نہ دیاشوخیوں نے تری فقرہ بھی تو چلنے نہ دیاشاہ اکبر داناپوری
- مجھ سے دل آپ کا مکدر ہےایسا جینا مجھے بھی دوبھر ہےشاہ اکبر داناپوری
- واہ کس رنگ پہ ہے رنگ بہار عارضباغ فردوس کا ہر پھول نثار عارضشاہ اکبر داناپوری
- ہزاروں راز نہاں ہیں دہن کے پردے میںکروڑوں نکتہ ہیں اک اک سخن کے پردے میںشاہ اکبر داناپوری
- ہوں وہ مومن جسے ایماں سے سروکار نہیںوہ برہمن ہوں جسے حاجت زنار نہیںشاہ اکبر داناپوری
- پھونکی تپ فراق نے یہ تن بدن میں آگاب جسم کی جگہ ہے مرے پیرہن میں آگشاہ اکبر داناپوری
- تو نے خنجر مری گردن پہ نہ پھیرا اچھااچھا اچھا ارے او جان کے لیوا اچھاشاہ اکبر داناپوری
- جاگا وہاں نصیب عدو کا تمام راتمیں بے قراریوں سے نہ سویا تمام راتشاہ اکبر داناپوری
- جو بنے آئنہ وہ تیرا تماشہ دیکھےاپنی صورت میں ترے حسن کا جلوہ دیکھےشاہ اکبر داناپوری
- کس قدر دھیان ہے اے کاکل پیچاں تیرااپنے سایہ سے الجھتا ہے پریشان تیراشاہ اکبر داناپوری
- محو ایسا تری صورت میں ہے شیدا تیرادیکھتا ہے وہ ہر اک شکل میں جلوہ تیراشاہ اکبر داناپوری
- موسیٰ ہیں ہمیں جلوۂ دیدار ہمیں ہیںہیں طور ہمیں نور ہمیں نار ہمیں ہیںشاہ اکبر داناپوری
- نکلی جو روح جسم سے پھر ہے بدن میں کیاجب شمع بجھ گئی تو رہا انجمن میں کیاشاہ اکبر داناپوری
- جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہےاثر گردش ایام سے جی ڈرتا ہےاختر انصاری اکبرآبادی
- دور تک روشنی ہے غور سے دیکھموت بھی زندگی ہے غور سے دیکھاختر انصاری اکبرآبادی
- رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدمہاں مرے عزم جواں اور ذرا تیز قدماختر انصاری اکبرآبادی
- رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیںکون ہے اپنے ہوش میں ظالم کس کا گریباں چاک نہیںاختر انصاری اکبرآبادی
- زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہامگر نگاہ نے اس انجمن میں کیا نہ کہااختر انصاری اکبرآبادی
- زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روزمیں سنواروں گا تری زلف پریشاں اک روزاختر انصاری اکبرآبادی
- سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کوہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کواختر انصاری اکبرآبادی
- شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھوداستانوں کے اب عنوان بدل کر دیکھواختر انصاری اکبرآبادی
- شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کروپیو تو بزم میں فکر و نظر کی بات کرواختر انصاری اکبرآبادی
- ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تکمجھ کو حیرت رہی انجمن میں تری کیوں ہیں خاموش اہل زباں آج تکاختر انصاری اکبرآبادی
- فسردہ ہو کے میخانے سے نکلےیہاں بھی اپنے بیگانے سے نکلےاختر انصاری اکبرآبادی
- کوشش پیہم کو سعیٔ رائیگاں کہتے رہوہم چلے اب تم ہماری داستاں کہتے رہواختر انصاری اکبرآبادی
- کون سنتا ہے صرف ذات کی باتلب پہ ہے میرے کائنات کی باتاختر انصاری اکبرآبادی
- کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلےکون آیا تھا تری بزم میں ہم سے پہلےاختر انصاری اکبرآبادی
- لٹاؤ جان تو بنتی ہے بات کس نے کہایہ بزم عشق میں راز حیات کس نے کہااختر انصاری اکبرآبادی
- ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کربہار آ تو گئی رنگ و بو کی بات نہ کراختر انصاری اکبرآبادی
- نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیےقلم سے کیا حکایات زمین و آسماں لکھیےاختر انصاری اکبرآبادی
- نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیںکہ منزلوں کے چراغ اب تک انتظار میں ہیںاختر انصاری اکبرآبادی
- نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھونظر والوں تمہیں کرنا ہے اب دنیا میں کیا سمجھواختر انصاری اکبرآبادی
- نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانابہت دشوار ہے چڑھتے ہوئے طوفاں کا تھم جانااختر انصاری اکبرآبادی
- ہر لمحہ عطا کرتا ہے پیمانہ سا اک شخصآنکھوں میں لیے بیٹھا ہے مے خانہ سا اک شخصاختر انصاری اکبرآبادی
- یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھااب وہ چکناچور پڑا ہے جس شیشے میں بال نہ تھااختر انصاری اکبرآبادی
- یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورتقابل دید ہوئی ہے گل تر کی صورتاختر انصاری اکبرآبادی
- یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلےنظر کچھ اور تھی موج شراب سے پہلےاختر انصاری اکبرآبادی
- یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیںاب مرے زیر قدم کاہکشاں ہے کہ نہیںاختر انصاری اکبرآبادی
- زمین و اہل زمیں کے بنانے والے سنترا یہ ڈھنگ ہے کتنا عجیب اور نیارااختر انصاری اکبرآبادی
- اپنی جاں بازی کا جس دم امتحاں ہو جائے گاخنجر سفاک پر جوہر عیاں ہو جائے گاامداد امام اثر
- اپنے در سے جو اٹھاتے ہیں ہمیںخاک میں آپ ملاتے ہیں ہمیںامداد امام اثر
- اس بت بے مثال کا پہلوہے خدا سے وصال کا پہلوامداد امام اثر
- بہے ساتھ اشک کے لخت جگر تکنہ کی اس نے مری جانب نظر تکامداد امام اثر
- ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیںاجازت جب نہیں در کی پس دیوار بیٹھے ہیںامداد امام اثر
- جفائیں ہوتی ہیں گھٹتا ہے دم ایسا بھی ہوتا ہےمگر ہم پر جو ہے تیرا ستم ایسا بھی ہوتا ہےامداد امام اثر
- جھوٹے وعدوں پر تمہاری جائیں کیاجانتے ہیں تم کو دھوکا کھائیں کیاامداد امام اثر
- حسن کی جنس خریدار لیے پھرتی ہےساتھ بازار کا بازار لیے پھرتی ہےامداد امام اثر
- دل سنگ نہیں ہے کہ ستم گر نہ بھر آتاکرتے نہ اگر ضبط تو منہ تک جگر آتاامداد امام اثر
- دل سے کیا پوچھتا ہے زلف گرہ گیر سے پوچھاپنے دیوانے کا احوال تو زنجیر سے پوچھامداد امام اثر
- روتے ہیں سن کے کہانی میریکاش سنتے وہ زبانی میریامداد امام اثر