تقاضا گو ہے
Nadeem Najidتقاضا گو ہے
کہ ہم اس کے ہاتھ کو تھامیں
ہم اس کے ساتھ گزاریں کئی حسیں شامیں
میں تم سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا ارادہ ہے
یہ نظم ہم سے محبت میں کچھ زیادہ ہے
جو تم کہو تو اسے خود پہ اوڑھ لیتے ہیں
اور اس سے عشق کی وحدت نچوڑ لیتے ہیں
ہماری بانہوں کی حدت سے پھوٹتی ہوئی نظم
یہ صرف نظم نہیں ہے
وجود وحدت ہے
خدا کا شکر کہ یہ نظم لکھ رہا ہوں میں
زمانہ وار تسلسل سے دکھ رہا ہوں میں
زمانہ وار تسلسل سے دکھ رہا ہوں میں