ریحان عشق کے پہلو میں کچھ لویں رکھ کر

Nadeem Najid

ریحان عشق کے پہلو میں کچھ لویں رکھ کر

تم عین عشق کی تمثال میں مجھے ڈھالو

پھر اس کے بعد رحل میں رکھو دعائیں دو

کہ میں بھی مصرع سرسبز سے لپٹ جاؤں

کئی زمانوں سے بکھرا ہوا سمٹ جاؤں

سمٹ جو پاؤں تو بس اس قدر گزارش ہے

وجودیت کے اس اعلیٰ مقام پر رکھ دو

سجود اٹھاؤ اٹھا کر قیام پر رکھ دو

دیار عشق کی درگاہ پر فقط مجھ کو

تمام عمر درود و سلام پر رکھ دو

تمام عمر درود و سلام پر رکھ دو