ہم اپنے اپنے بدن کی حدوں میں گم رہ کر

Nadeem Najid

ہم اپنے اپنے بدن کی حدوں میں گم رہ کر

بہت حسین بہت ہی مہین جذبوں کو

گھٹن کی آگ میں جلنے کو چھوڑ دیتے ہیں

ہم اپنی میں کی عقیدت میں سجدہ زن ہو کر

قسم وجود کی مرنے کو چھوڑ دیتے ہیں

حدود جسم سے باہر نکل کے مل کسی دن

دکھا نکال کے سینے سے اپنے دل کسی دن

یہ بات پیار میں سننے کو ہے حسیں جانا

پہ ہم نے عشق کی تجسیم کو نہیں مانا

وجود عین کی یکتائی کو نہیں مانا

یہ رہ گزار محبت سبھی کے واسطے ہے

وجود وحدت معراج بیچ راستے ہے

کبھی جو آنا تو پورے بدن کے ساتھ آنا

کبھی جو آنا تو پورے بدن کے ساتھ آنا