نادیدہ منزلوں کے پیمبر بہت ملے
Badr Shamsiنادیدہ منزلوں کے پیمبر بہت ملے
ہم کو ہماری راہ کے پتھر بہت ملے
درد آشنا خلوص کے پیکر بہت ملے
زخموں کو ڈھونڈتے ہوئے نشتر بہت ملے
سینے سے ہم لگائے ہوئے تھے متاع درد
ہم سے ملے بھی لوگ تو بچ کر بہت ملے
کس کس کو اپنے دل میں ہم آخر اتارتے
جو ہم پہ مہرباں تھے وہ خنجر بہت ملے
یادوں کے زخم دل کا لہو درد بے کسی
کوچے میں زندگی کے ستمگر بہت ملے
دیکھا جدھر لگی تھی شکستہ دلوں کی بھیڑ
آبادیوں میں اجڑے ہوئے گھر بہت ملے
پلکوں پہ اپنی خوب اگی آنسوؤں کی فصل
ان خشک ڈالیوں پہ گل تر بہت ملے
بھیجے ہیں اس نے کتنے محبت بھرے خطوط
ہم کو ہمارے قتل کے محضر بہت ملے
اے بدرؔ دل کے داغ تھے راتوں کو ضو فشاں
تیرہ شبی میں چاند سے پیکر بہت ملے