قرینوں میں

Nadeem Najid

قرینوں میں

حسیں قدرت کے یہ پہلا قرینہ ہے

بدن پہلا تعارف ہے

بدن ہی پہلا زینہ ہے

بدن بن لمس کے یارا

ہے بنجر کوکھ کے جیسے

تبھی تو چاٹ جاتی ہے

جدائی روگ کے جیسے

اگر چاہو تسلسل سے بدن کی تم نموکاری

کبھی مت ٹوٹنے دینا بدن کی لمس سے یاری

حسیں رنگوں حسیں پھولوں حسیں موسم میں رہنا تم

محبت جس طرف بہتی ہو بس اس سمت بہنا تم

محبت کے سفر میں گر تمہیں بھی شام ہو جائے

چراغ عشق ممکن ہے تمہارے نام ہو جائے

اور ایسے ہم کئی بھٹکے ہوؤں کا کام ہو جائے

محبت عام ہو جائے

محبت عام ہو جائے