ڈایری کا وہ صفحہ
Nadeem Najidڈایری کا وہ صفحہ
کہ جس پہ اتاری گئی نظم میری
اسے دیکھنے کو نظر جانے کتنی
کتابوں کے پنوں بہت خشک ہوتے چناروں کے پتوں سے ہو آ چکی ہے
اور افسردگی سے تمہیں دیکھتی ہے
وہ صفحہ تری ڈایری میں کہیں سانس لیتے ہوئے
اک تسلسل سے میرے قلم کے حسیں خواب میں کھو چکا ہے
وہ حسیں خواب اور ڈایری کا وہ صفحہ
مجھے دیکھنا ہے
وہ صفحہ دکھا دو
جو ممکن ہو مجھ کو مجھی سے ملا دو
جو ممکن ہو مجھ کو مجھی سے ملا دو