نظر بچا کے نظر سے گزر گیا وہ شخص

Badr Shamsi

نظر بچا کے نظر سے گزر گیا وہ شخص

مرے وجود میں لیکن اتر گیا وہ شخص

جو زندگی کی علامت تھا اک زمانے سے

سنا ہے آج خود اپنے میں مر گیا وہ شخص

کہیں بھی کم نہ ہوا اس کا درد تنہائی

سمندروں سے بھی پیاسا گزر گیا وہ شخص

نہ جانے کب سے سنبھالے ہوئے تھا جو خود کو

نہ جانے آج یہ کیسے بکھر گیا وہ شخص

طلوع درد ہوا آفتاب نو کی طرح

شب الم کی فضا میں نکھر گیا وہ شخص

سجائے اشک زمانے کے اپنی آنکھوں میں

مگر خود اپنے تبسم سے ڈر گیا وہ شخص

پکارتی تھی اسے بے چراغ راہ گزر

تمام کرکے جب اپنا سفر گیا وہ شخص

ہر ایک چہرہ ہے بے چہرگی کا آئینہ

ابھی جو بدرؔ یہاں تھا کدھر گیا وہ شخص