جو سن سکو تو سنو تم فغاں چراغوں کی
Nadeem Najidجو سن سکو تو سنو تم فغاں چراغوں کی
لویں چرا لی گئی ہیں یہاں چراغوں کی
میں خال و خد کے بکھرنے سے بچنا چاہتا ہوں
سو مجھ کو چاہیے کچھ دن اماں چراغوں کی
جسے بھی چاہیے وہ آئے روشنی لے جائے
سجائے بیٹھے ہیں ہم تو دکاں چراغوں کی
یہیں کہیں پہ محبت کا ہے پڑاؤ میاں
سنائی دینے لگی ہے اذاں چراغوں کی
سحر سے کہیے کہ ٹھہرے اور انتظار کرے
میں سن رہا ہوں ابھی داستاں چراغوں کی