اکیلے اور فرصت میں

Nadeem Najid

اکیلے اور فرصت میں

کبھی سب چھوڑ جائیں تو

بس انجانے میں تم یوںہی مجھے مس کال دے دینا

مجھے بس بات کرنا ہے

مری جاں بات ایسی

جو کبھی نہ ختم ہو پائے

یہ خواہش ہے

کسی دن بس تری آواز میں گھل کر

محبت میں کہیں دھل کر

حیات جاوداں پاؤں

حصار عشق میں تیرے

کچھ اس طرح بھٹک جاؤں

کبھی بھی لوٹ نہ پاؤں

کبھی بھی لوٹ نہ پاؤں