صرف سایہ ہی نہیں پاؤں میں رکھا ہوا ہے

Nadeem Najid

صرف سایہ ہی نہیں پاؤں میں رکھا ہوا ہے

ایک سورج بھی مری چھاؤں میں رکھا ہوا ہے

یہ الگ بات کہ میں شہر زدہ ہوں لیکن

بچپنا اب بھی مرا گاؤں میں رکھا ہوا ہے

دربدر ڈھونڈھتا پھرتا ہے زمانہ جس کو

وہ گھنا سایہ فقط ماؤں میں رکھا ہوا ہے

کوئی رشتہ نہ سہی کوئی تعلق نہ سہی

کیا یہ کم ہے کہ شناساؤں میں رکھا ہوا ہے

کیا کریں بانٹ لیا ہے غم دنیا نے ہمیں

سر بچا ہے سو ترے پاؤں میں رکھا ہوا ہے