یوں بچھڑ جاؤں گا تم سے میں نے یہ سوچا نہ تھا
Badr Shamsiیوں بچھڑ جاؤں گا تم سے میں نے یہ سوچا نہ تھا
قربتوں میں فاصلوں کا کوئی اندازہ نہ تھا
جانے پہچانے ہوئے چہرے بھی سب تھے اجنبی
کتنا تنہا تھا وہاں بھی میں جہاں تنہا نہ تھا
اپنے دل کا زہر غم آنکھوں سے جو چھلکا گیا
وہ سمندر تھا مگر میری طرح گہرا نہ تھا
زندگی ہم بھی تری قدروں کے وارث تھے مگر
اپنی قسمت میں فقط دیوار تھی سایہ نہ تھا
ہر طرف ہے اب مری خاموشیوں کی بازگشت
زندگی میں اس سے پہلے اتنا سناٹا نہ تھا
روٹھنے والے مری چاہت کا اندازہ تو کر
اس قدر تو میں نے خود کو بھی کبھی چاہا نہ تھا
زخم بھی جس نے دئے ہیں مجھ کو غیروں کی طرح
وہ مرا اپنا تھا لیکن مجھ کو پہچانا نہ تھا
پیار آخر کیوں نہ آتا اپنے قاتل پر مجھے
میرے اس کے درمیاں کیا خون کا رشتہ نہ تھا
ہے وفائی کی شکایت تھی مجھے اس سے مگر
اس کی مجبوری کو جب تک بدرؔ میں سمجھا نہ تھا