میں اس سے بچھڑا تو پھر کس قدر اکیلی تھی
Badr Shamsiمیں اس سے بچھڑا تو پھر کس قدر اکیلی تھی
وہ چاندنی جو کبھی میرے ساتھ کھیلی تھی
کبھی کبھی بڑی شدت سے یاد آتی ہے
وہ نیند جو مری آنکھوں کی اک سہیلی تھی
قدم قدم پہ تھے جنگل میں سائبان بہت
مگر وہ چلتی ہوئی دھوپ جو اکیلی تھی
جہاں سے میں یہ خراشیں سجا کے لایا ہوں
مرے پڑوس میں پھولوں کی اک حویلی تھی
بدل گئے تھے لکیروں کے زاویے ورنہ
وہی تھا ہاتھ ہمارا وہی ہتھیلی تھی
بھلا دیا اسے منزل کے پاس سورج نے
مسافتوں کی کڑی دھوپ جس نے جھیلی تھی
ہمارے بارے میں آئینہ سوچتا ہی رہا
ہماری شکل میں شاید کوئی پہیلی تھی
ہمارے گاؤں کا نقشہ بدل گیا ورنہ
جہاں ببول ہے پہلے وہاں چنبیلی تھی
کھلی ہوئی ہے وہ اے بدرؔ ایک جنگل میں
مرے وجود نے جو چاندنی انڈیلی تھی