تیری سانسوں کا زیر و بم جانم

Yahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)

تیری سانسوں کا زیر و بم جانم

توڑ دے صبر کا بھرم جانم

یہ بدن کوئی پر خطر رستہ

فتنہ ساماں ہے خم بہ خم جانم

ایسی نازک کمر کہ جلتے ہیں

بہتی ندیوں کے پیچ و خم جانم

تم نے بس مسکرا کے دیکھ لیا

لڑکھڑانے لگے قدم جانم

اتنی مدت کے بعد ملتی ہو

حال پوچھو گی کم سے کم جانم