شمع امید جلاتے ہوئے مر جائیں گے

Yahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)

شمع امید جلاتے ہوئے مر جائیں گے

دشت ظلمات بساتے ہوئے مر جائیں گے

ہم پہ الزام پہ الزام لگائیں گے لوگ

اور ہم زخم دکھاتے ہوئے مر جائیں گے

شہر در شہر ہے اک شعلہ نوائی کا چلن

لوگ یہ آگ بجھاتے ہوئے مر جائیں گے

آتش آمیز ہے دریاؤں میں پانی کا مزاج

آب کش پیاس بجھاتے ہوئے مر جائیں گے