Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. اب کیا کہیں جو موسم گلشن کا حال ہےپھولوں سے رابطہ نہ صبا کا خیال ہےHafeez Shahid (1942–2014)
  2. اس شہر میں نشانۂ قاتل ہمی تو ہیںکچھ جابروں کی راہ میں حائل ہمی تو ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
  3. اک قبیلے سے ہیں لیکن رنگ و نقشہ اور ہےاور ہے کانٹوں کی دنیا گل کی دنیا اور ہےHafeez Shahid (1942–2014)
  4. بے ارادہ کوچۂ قاتل میں جانا پڑ گیاپھر ہمیں اپنا مقدر آزمانا پڑ گیاHafeez Shahid (1942–2014)
  5. پہلے تو شہر بھر میں اندھیرا کیا گیاپھر ہم سے روشنی کا تقاضا کیا گیاHafeez Shahid (1942–2014)
  6. تبدیلیوں کی راہ پہ چلنے تو دے مجھےخود کو بدل رہا ہوں بدلنے تو دے مجھےHafeez Shahid (1942–2014)
  7. تسلیم مجھ کو میں ترے پاسنگ تو نہیںلیکن تجھے نصیب مرا رنگ تو نہیںHafeez Shahid (1942–2014)
  8. جادۂ راستی ہی کافی ہےمجھ کو یہ روشنی ہی کافی ہےHafeez Shahid (1942–2014)
  9. جھکا سکے نہ مجھے حادثے محبت کےوہی ہوں میں تو وہی سلسلے محبت کےHafeez Shahid (1942–2014)
  10. چھپی دل میں جو یاد یار ہوگیمسافت اور بھی دشوار ہوگیHafeez Shahid (1942–2014)
  11. دل کا ہر ایک داغ چراغاں سے کم نہیںمیری خزاں بھی فصل بہاراں سے کم نہیںHafeez Shahid (1942–2014)
  12. رہو گے ہم سے کب تک بے خبر سےجدا ہوتی نہیں دیوار در سےHafeez Shahid (1942–2014)
  13. سر اشجار تحریر ہوا اچھی نہیں لگتیہمیں پت جھڑ میں گلشن کی فضا اچھی نہیں لگتیHafeez Shahid (1942–2014)
  14. عجب بگڑے مقدر بن گئے ہیںجو دریا تھے سمندر بن گئے ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
  15. فکر سود و زیاں میں رہتا ہوںمیں بھی اس خاکداں میں رہتا ہوںHafeez Shahid (1942–2014)
  16. کب کا گزر چکا ہے وہ موسم شباب کااب ذکر ہے فضول وفا کی کتاب کاHafeez Shahid (1942–2014)
  17. کسی کی یاد میں لکھا ہے جو کچھیہی کچھ ہے مرا اپنا ہے جو کچھHafeez Shahid (1942–2014)
  18. کوئی نشانیٔ عہد وصال دے جائےوہ میری عمر مرے ماہ و سال دے جائےHafeez Shahid (1942–2014)
  19. کیوں قتل کے ارمان میں آزار اٹھائیںگردن مری حاضر ہے وہ تلوار اٹھائیںHafeez Shahid (1942–2014)
  20. نوچ لیے ہر شاخ سے پتے بوٹا بوٹا لوٹ لیادست خزاں نے چوری چوری باغ تمنا لوٹ لیاHafeez Shahid (1942–2014)
  21. وہ مجھ میں تھا نہاں میں دیکھتا کیاپس دیوار جاں میں دیکھتا کیاHafeez Shahid (1942–2014)
  22. وہ ہم سے ہو گیا ہے بے خبر کچھبدلتے موسموں کا ہے اثر کچھHafeez Shahid (1942–2014)
  23. ہر سمت زندگی کا تماشا بھی خوب ہےدنیا بھی خوب رونق دنیا بھی خوب ہےHafeez Shahid (1942–2014)
  24. ہمیں اہل زمانہ ڈھونڈتے ہیںکوئی تازہ نشانہ ڈھونڈتے ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
  25. ہوا خاموش پتے سو رہے ہیںابھی شاخوں پہ غنچے سو رہے ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
  26. یہ رنگ ترے شہر کے صحرا میں کہاں ہیںگلیاں ہیں نہ کوچے ہیں مکیں ہیں نہ مکاں ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
  27. کس سے پوچھئے جا کر کیوں بگڑ گئے بچےآتشیں کھلونوں سے کھیلنے لگے بچےHafeez Shahid (1942–2014)
  28. چلے تھے گھر سے تو ہم درد کی دوا کے لئےپڑے ہیں رستے میں تیرے مگر دعا کے لئےEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
  29. حسن کی ریتیں عشق کی رسمیں چھوٹے بچے کیا جانیںشوخ ادائیں مبہم باتیں چھوٹے بچے کیا جانیںEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
  30. دن بھی ہے رات بھی ہے میرے ساتھطرح میں سادگی ہے میرے ساتھEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
  31. سوال تجھ سے شب و روز میرا چلتا رہاجواب تیرا ہواؤں میں مجھ کو ملتا رہاEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
  32. صداقتوں کے پیمبر گئے رسول گئےخودی کی حرمت افضل گئی اصول گئےEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
  33. فلک پہ شام ڈھلے جو چمکنے لگتے ہیںوہ تیری آنکھوں میں آ کر دمکنے لگتے ہیںEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
  34. تپتی زمیں پہ پاؤں نہ دھر اب بھی لوٹ جاکیوں ہو رہا ہے خاک بہ سر اب بھی لوٹ جاEjaz Rahi (1942–2006)
  35. پھر صدا تنگ و تاریک غاروں سے ابھریتا بہ حد نظرEjaz Rahi (1942–2006)
  36. تب ہزاروں اندھیروں سےاک روشنی کی کرن پھوٹ کرEjaz Rahi (1942–2006)
  37. مدتوں سےخموشی کے بے انت ورنوں کی اندھی گپھا میںEjaz Rahi (1942–2006)
  38. ایک جیسے ہیں زمانے کے پریشاں صورتوہی ویرانیٔ دل اور وہی ویراں صورتUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
  39. ملال و حسرت و بیم و رجا بہت کچھ ہےہمارے پاس خدا کا دیا بہت کچھ ہےUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
  40. نہاں ہے سب سے پہ ہر جا دکھائی دیتا ہےچہار سو ترا جلوہ دکھائی دیتا ہےUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
  41. ہزار زخم بہ عنوان جاں لئے پھرناامید و بیم کی ایک داستاں لئے پھرناUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
  42. اپاہج باپ کو بیٹا اکیلا چھوڑ جاتا ہےمصیبت میں تو اکثر ساتھ سایہ چھوڑ جاتا ہےLaxman Sharma Vahid (b. 1942)
  43. اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سےدل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سےIftikhar Arif (b. 1943)
  44. امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیںذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  45. انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتےیہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتےIftikhar Arif (b. 1943)
  46. اہل محبت کی مجبوری بڑھتی جاتی ہےمٹی سے گلاب کی دوری بڑھتی جاتی ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  47. بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی مرا ہےآنکھیں بھی مری خواب پریشاں بھی مرا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  48. بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگامرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگاIftikhar Arif (b. 1943)
  49. جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میںتم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میںIftikhar Arif (b. 1943)
  50. حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھےہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھےIftikhar Arif (b. 1943)