Poetry
Poet
Meter
- اب کیا کہیں جو موسم گلشن کا حال ہےپھولوں سے رابطہ نہ صبا کا خیال ہےHafeez Shahid (1942–2014)
- اس شہر میں نشانۂ قاتل ہمی تو ہیںکچھ جابروں کی راہ میں حائل ہمی تو ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- اک قبیلے سے ہیں لیکن رنگ و نقشہ اور ہےاور ہے کانٹوں کی دنیا گل کی دنیا اور ہےHafeez Shahid (1942–2014)
- بے ارادہ کوچۂ قاتل میں جانا پڑ گیاپھر ہمیں اپنا مقدر آزمانا پڑ گیاHafeez Shahid (1942–2014)
- پہلے تو شہر بھر میں اندھیرا کیا گیاپھر ہم سے روشنی کا تقاضا کیا گیاHafeez Shahid (1942–2014)
- تبدیلیوں کی راہ پہ چلنے تو دے مجھےخود کو بدل رہا ہوں بدلنے تو دے مجھےHafeez Shahid (1942–2014)
- تسلیم مجھ کو میں ترے پاسنگ تو نہیںلیکن تجھے نصیب مرا رنگ تو نہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- جادۂ راستی ہی کافی ہےمجھ کو یہ روشنی ہی کافی ہےHafeez Shahid (1942–2014)
- جھکا سکے نہ مجھے حادثے محبت کےوہی ہوں میں تو وہی سلسلے محبت کےHafeez Shahid (1942–2014)
- چھپی دل میں جو یاد یار ہوگیمسافت اور بھی دشوار ہوگیHafeez Shahid (1942–2014)
- دل کا ہر ایک داغ چراغاں سے کم نہیںمیری خزاں بھی فصل بہاراں سے کم نہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- رہو گے ہم سے کب تک بے خبر سےجدا ہوتی نہیں دیوار در سےHafeez Shahid (1942–2014)
- سر اشجار تحریر ہوا اچھی نہیں لگتیہمیں پت جھڑ میں گلشن کی فضا اچھی نہیں لگتیHafeez Shahid (1942–2014)
- عجب بگڑے مقدر بن گئے ہیںجو دریا تھے سمندر بن گئے ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- فکر سود و زیاں میں رہتا ہوںمیں بھی اس خاکداں میں رہتا ہوںHafeez Shahid (1942–2014)
- کب کا گزر چکا ہے وہ موسم شباب کااب ذکر ہے فضول وفا کی کتاب کاHafeez Shahid (1942–2014)
- کسی کی یاد میں لکھا ہے جو کچھیہی کچھ ہے مرا اپنا ہے جو کچھHafeez Shahid (1942–2014)
- کوئی نشانیٔ عہد وصال دے جائےوہ میری عمر مرے ماہ و سال دے جائےHafeez Shahid (1942–2014)
- کیوں قتل کے ارمان میں آزار اٹھائیںگردن مری حاضر ہے وہ تلوار اٹھائیںHafeez Shahid (1942–2014)
- نوچ لیے ہر شاخ سے پتے بوٹا بوٹا لوٹ لیادست خزاں نے چوری چوری باغ تمنا لوٹ لیاHafeez Shahid (1942–2014)
- وہ مجھ میں تھا نہاں میں دیکھتا کیاپس دیوار جاں میں دیکھتا کیاHafeez Shahid (1942–2014)
- وہ ہم سے ہو گیا ہے بے خبر کچھبدلتے موسموں کا ہے اثر کچھHafeez Shahid (1942–2014)
- ہر سمت زندگی کا تماشا بھی خوب ہےدنیا بھی خوب رونق دنیا بھی خوب ہےHafeez Shahid (1942–2014)
- ہمیں اہل زمانہ ڈھونڈتے ہیںکوئی تازہ نشانہ ڈھونڈتے ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- ہوا خاموش پتے سو رہے ہیںابھی شاخوں پہ غنچے سو رہے ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- یہ رنگ ترے شہر کے صحرا میں کہاں ہیںگلیاں ہیں نہ کوچے ہیں مکیں ہیں نہ مکاں ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- کس سے پوچھئے جا کر کیوں بگڑ گئے بچےآتشیں کھلونوں سے کھیلنے لگے بچےHafeez Shahid (1942–2014)
- چلے تھے گھر سے تو ہم درد کی دوا کے لئےپڑے ہیں رستے میں تیرے مگر دعا کے لئےEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- حسن کی ریتیں عشق کی رسمیں چھوٹے بچے کیا جانیںشوخ ادائیں مبہم باتیں چھوٹے بچے کیا جانیںEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- دن بھی ہے رات بھی ہے میرے ساتھطرح میں سادگی ہے میرے ساتھEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- سوال تجھ سے شب و روز میرا چلتا رہاجواب تیرا ہواؤں میں مجھ کو ملتا رہاEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- صداقتوں کے پیمبر گئے رسول گئےخودی کی حرمت افضل گئی اصول گئےEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- فلک پہ شام ڈھلے جو چمکنے لگتے ہیںوہ تیری آنکھوں میں آ کر دمکنے لگتے ہیںEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- تپتی زمیں پہ پاؤں نہ دھر اب بھی لوٹ جاکیوں ہو رہا ہے خاک بہ سر اب بھی لوٹ جاEjaz Rahi (1942–2006)
- پھر صدا تنگ و تاریک غاروں سے ابھریتا بہ حد نظرEjaz Rahi (1942–2006)
- تب ہزاروں اندھیروں سےاک روشنی کی کرن پھوٹ کرEjaz Rahi (1942–2006)
- مدتوں سےخموشی کے بے انت ورنوں کی اندھی گپھا میںEjaz Rahi (1942–2006)
- ایک جیسے ہیں زمانے کے پریشاں صورتوہی ویرانیٔ دل اور وہی ویراں صورتUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
- ملال و حسرت و بیم و رجا بہت کچھ ہےہمارے پاس خدا کا دیا بہت کچھ ہےUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
- نہاں ہے سب سے پہ ہر جا دکھائی دیتا ہےچہار سو ترا جلوہ دکھائی دیتا ہےUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
- ہزار زخم بہ عنوان جاں لئے پھرناامید و بیم کی ایک داستاں لئے پھرناUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
- اپاہج باپ کو بیٹا اکیلا چھوڑ جاتا ہےمصیبت میں تو اکثر ساتھ سایہ چھوڑ جاتا ہےLaxman Sharma Vahid (b. 1942)
- اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سےدل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سےIftikhar Arif (b. 1943)
- امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیںذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتےیہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتےIftikhar Arif (b. 1943)
- اہل محبت کی مجبوری بڑھتی جاتی ہےمٹی سے گلاب کی دوری بڑھتی جاتی ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی مرا ہےآنکھیں بھی مری خواب پریشاں بھی مرا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگامرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگاIftikhar Arif (b. 1943)
- جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میںتم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میںIftikhar Arif (b. 1943)
- حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھےہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھےIftikhar Arif (b. 1943)