ملال و حسرت و بیم و رجا بہت کچھ ہے
Urooj Akhtar Zaidi (1942–2021)ملال و حسرت و بیم و رجا بہت کچھ ہے
ہمارے پاس خدا کا دیا بہت کچھ ہے
متاع غم میں ابھی تک کمی نہیں آئی
اگرچہ راہ میں اپنا لٹا بہت کچھ ہے
خوشی اگر نہ ملی زندگی میں کیا غم ہے
ہمارے پاس خوشی کے سوا بہت کچھ ہے
یہ اور بات ہمیں تم نہ مل سکے لیکن
تمہاری بزم سے ہم کو ملا بہت کچھ ہے
وہ آج جس سے ہے یہ خاطر حزیں روشن
اسی کے شعلوں میں یہ دل جلا بہت کچھ ہے
ملی نہ داد سخن نا شناس لوگوں سے
سخن کا اپنے یہی اک صلہ بہت کچھ ہے
عروجؔ وہ ہی نہیں کہہ سکے جو کہنا تھا
سنا تو یہ تھا کہ تم نے کہا بہت کچھ ہے