Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. حریم لفظ میں کس درجہ بے ادب نکلاجسے نجیب سمجھتے تھے کم نسب نکلاIftikhar Arif (b. 1943)
  2. خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھIftikhar Arif (b. 1943)
  3. خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیںچلیے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  4. خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گےسندر کومل دھیان تتلیاں بے پر ہوں گی تب سوچیں گےIftikhar Arif (b. 1943)
  5. خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہےایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  6. خوف کے سیل مسلسل سے نکالے مجھے کوئیمیں پیمبر تو نہیں ہوں کہ بچا لے مجھے کوئیIftikhar Arif (b. 1943)
  7. دکھ اور طرح کے ہیں دعا اور طرح کیاور دامن قاتل کی ہوا اور طرح کیIftikhar Arif (b. 1943)
  8. دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہوکوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہوIftikhar Arif (b. 1943)
  9. ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میںپھر اس کے بعد مسلسل عذاب آنکھوں میںIftikhar Arif (b. 1943)
  10. روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہےزمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  11. ستارہ وار جلے پھر بجھا دئے گئے ہمپھر اس کے بعد نظر سے گرا دئے گئے ہمIftikhar Arif (b. 1943)
  12. سر بام ہجر دیا بجھا تو خبر ہوئیسر شام کوئی جدا ہوا تو خبر ہوئیIftikhar Arif (b. 1943)
  13. سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیںجو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  14. سمندر اس قدر شوریدہ سر کیوں لگ رہا ہےکنارے پر بھی ہم کو اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  15. شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہےجس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  16. عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیاکہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیاIftikhar Arif (b. 1943)
  17. غیروں سے داد جور و جفا لی گئی تو کیاگھر کو جلا کے خاک اڑا دی گئی تو کیاIftikhar Arif (b. 1943)
  18. فضا میں وحشت سنگ و سناں کے ہوتے ہوئےقلم ہے رقص میں آشوب جاں کے ہوتے ہوئےIftikhar Arif (b. 1943)
  19. کچھ بھی نہیں کہیں نہیں خواب کے اختیار میںرات گزار دی گئی صبح کے انتظار میںIftikhar Arif (b. 1943)
  20. کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائےبس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائےIftikhar Arif (b. 1943)
  21. کوئی مژدہ نہ بشارت نہ دعا چاہتی ہےروز اک تازہ خبر خلق خدا چاہتی ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  22. کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیاجہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیاIftikhar Arif (b. 1943)
  23. گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گاجو دل میں ہے اب اس کا تذکرہ کرنا پڑے گاIftikhar Arif (b. 1943)
  24. مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دےمیں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دےIftikhar Arif (b. 1943)
  25. منصب نہ کلاہ چاہتا ہوںتنہا ہوں گواہ چاہتا ہوںIftikhar Arif (b. 1943)
  26. میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہےگہرے زرد زمین کی رنگت دھانی کرتا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  27. وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھیمیں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھیIftikhar Arif (b. 1943)
  28. وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہےمشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  29. ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیںآنسو بھی تو ماؤں جیسی باتیں کرتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  30. ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیںدلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  31. ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیںسروں کی فصل جب اتری تھی تب سے واقف ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  32. یہ اب کھلا کہ کوئی بھی منظر مرا نہ تھامیں جس میں رہ رہا تھا وہی گھر مرا نہ تھاIftikhar Arif (b. 1943)
  33. یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیںدعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیںIftikhar Arif (b. 1943)
  34. یہ بستی جانی پہچانی بہت ہےیہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  35. یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگاتباہ ہو تو گئے ہیں اب اور کیا ہوگاIftikhar Arif (b. 1943)
  36. یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہےیہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
  37. اپنے شہسواروں کوقتل کرنے والوں سےIftikhar Arif (b. 1943)
  38. اک سورج ہے جو شام ڈھلے مجھے پرسا دینے آتا ہےان پھولوں کا جو میرے لہو میں کھلنے تھے اور کھلے نہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  39. جس روز ہمارا کوچ ہوگاپھولوں کی دکانیں بند ہوں گیIftikhar Arif (b. 1943)
  40. جسم کے راستوں سے گزر کرمطمئن نفس کی آرزو میںIftikhar Arif (b. 1943)
  41. خواب خس خانہ و برفاب کے پیچھے پیچھےگرمئ شہر مقدر کے ستائے ہوئے لوگIftikhar Arif (b. 1943)
  42. خوابوں سے تہی بے نور آنکھیںہر شام نئے منظر چاہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  43. خوش گوار موسم میںان گنت تماشائیIftikhar Arif (b. 1943)
  44. دشت بے نخیل میںباد بے لحاظ نےIftikhar Arif (b. 1943)
  45. زمین سنگ سے سورج اگانے والے ہاتھکسے خبر تھی کہ اس شہر میں قلم ہوں گےIftikhar Arif (b. 1943)
  46. عجیب لوگ ہیںہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  47. وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پرسارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
  48. سپاہی آج بھی کوئی نہیں آیاکسی نے پھول ہی بھیجےIftikhar Arif (b. 1943)
  49. اب کے بار پھرموج بہار نےIftikhar Arif (b. 1943)
  50. ابھی کچھ دن لگیں گےدل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میںIftikhar Arif (b. 1943)