Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جو مجھے بھلا دیں گے میں انہیں بھلا دوں گاسب غرور ان کا میں خاک میں ملا دوں گاMunir Niazi (1928–2006)
  2. چاند نکلا ہے سر قریۂ ظلمت دیکھوہو گئی کیسی سیہ خانوں کی رنگت دیکھوMunir Niazi (1928–2006)
  3. چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھانظر سے دل کا غبار اترا تو میں نے دیکھاMunir Niazi (1928–2006)
  4. خلش ہجر دائمی نہ گئیتیرے رخ سے یہ بے رخی نہ گئیMunir Niazi (1928–2006)
  5. خمار شب میں اسے میں سلام کر بیٹھاجو کام کرنا تھا مجھ کو وہ کام کر بیٹھاMunir Niazi (1928–2006)
  6. خواب و خیال گل سے کدھر جائے آدمیاک گلشن ہوا ہے جدھر جائے آدمیMunir Niazi (1928–2006)
  7. خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھےسوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھےMunir Niazi (1928–2006)
  8. خیال یکتا میں خواب اتنےسوال تنہا جواب اتنےMunir Niazi (1928–2006)
  9. دشت باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیامیں فقط خوشبو سے اس کی تازہ دم سا ہو گیاMunir Niazi (1928–2006)
  10. دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ گر رہاجب تک رہا میں ساتھ مرے یہ ہنر رہاMunir Niazi (1928–2006)
  11. دل خوف میں ہے عالم فانی کو دیکھ کرآتی ہے یاد موت کی پانی کو دیکھ کرMunir Niazi (1928–2006)
  12. دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرفیاد پیچھے کھینچتی ہے آس آگے کی طرفMunir Niazi (1928–2006)
  13. دل کا سفر بس ایک ہی منزل پہ بس نہیںاتنا خیال اس کا ہمیں اس برس نہیںMunir Niazi (1928–2006)
  14. دل کو حال قرار میں دیکھایہ کرشمہ بہار میں دیکھاMunir Niazi (1928–2006)
  15. دن اگر چڑھتا ادھر سے میں ادھر سے جاگتاحسن سارا مشرقوں کا ساتھ میرے جاگتاMunir Niazi (1928–2006)
  16. دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہےکہنے کو اپنے دل سے کوئی داستاں تو ہےMunir Niazi (1928–2006)
  17. ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میںزر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میںMunir Niazi (1928–2006)
  18. رات اتنی جا چکی ہے اور سونا ہے ابھیاس نگر میں اک خوشی کا خواب بونا ہے ابھیMunir Niazi (1928–2006)
  19. ردا اس چمن کی اڑا لے گئیدرختوں کے پتے ہوا لے گئیMunir Niazi (1928–2006)
  20. رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوااتنا میں چپ ہوا کہ تماشا نہیں ہواMunir Niazi (1928–2006)
  21. رنگوں کی وحشتوں کا تماشا تھی بام شامطاری تھا ہر مکاں پہ جلال دوام شامMunir Niazi (1928–2006)
  22. روشنی در روشنی ہے اس طرفزندگی در زندگی ہے اس طرفMunir Niazi (1928–2006)
  23. رہتا ہے اک ہر اس سا قدموں کے ساتھ ساتھچلتا ہے دشت دشت نوردوں کے ساتھ ساتھMunir Niazi (1928–2006)
  24. زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیادنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیاMunir Niazi (1928–2006)
  25. زور پیدا جسم و جاں کی ناتوانی سے ہواشور شہروں میں مسلسل بے زبانی سے ہواMunir Niazi (1928–2006)
  26. سارے منظر ایک جیسے ساری باتیں ایک سیسارے دن ہیں ایک سے اور ساری راتیں ایک سیMunir Niazi (1928–2006)
  27. ساعت ہجراں ہے اب کیسے جہانوں میں رہوںکن علاقوں میں بسوں میں کن مکانوں میں رہوںMunir Niazi (1928–2006)
  28. سائے گھٹتے جاتے ہیںجنگل کٹتے جاتے ہیںMunir Niazi (1928–2006)
  29. سحر کے خواب کا مجھ پر اثر کچھ دیر رہنے دوکسی کے حال کی مجھ کو خبر کچھ دیر رہنے دوMunir Niazi (1928–2006)
  30. سفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بلا ہی نہ ہوکواڑ کھول کے دیکھو کہیں ہوا ہی نہ ہوMunir Niazi (1928–2006)
  31. سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیںان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیںMunir Niazi (1928–2006)
  32. شام کے مسکن میں ویراں میکدے کا در کھلاباب گزری صحبتوں کا خواب کے اندر کھلاMunir Niazi (1928–2006)
  33. شب ماہتاب نے شہ نشیں پہ عجیب گل سا کھلا دیامجھے یوں لگا کسی ہاتھ نے مرے دل پہ تیر چلا دیاMunir Niazi (1928–2006)
  34. شب وصال میں دوری کا خواب کیوں آیاکمال فتح میں یہ ڈر کا باب کیوں آیاMunir Niazi (1928–2006)
  35. شہر پربت بحر و بر کو چھوڑتا جاتا ہوں میںاک تماشا ہو رہا ہے دیکھتا جاتا ہوں میںMunir Niazi (1928–2006)
  36. صحن کو چمکا گئی بیلوں کو گیلا کر گئیرات بارش کی فلک کو اور نیلا کر گئیMunir Niazi (1928–2006)
  37. غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیںتو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیںMunir Niazi (1928–2006)
  38. غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوابارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہواMunir Niazi (1928–2006)
  39. کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتےسوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتےMunir Niazi (1928–2006)
  40. کوئی حد نہیں ہے کمال کیکوئی حد نہیں ہے جمال کیMunir Niazi (1928–2006)
  41. کوئی داغ ہے مرے نام پرکوئی سایہ میرے کلام پرMunir Niazi (1928–2006)
  42. مثال سنگ کھڑا ہے اسی حسیں کی طرحمکاں کی شکل بھی دیکھو دل مکیں کی طرحMunir Niazi (1928–2006)
  43. محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئےدیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئےMunir Niazi (1928–2006)
  44. مکاں میں قید صدا کی دہشتمکاں سے باہر خلا کی دہشتMunir Niazi (1928–2006)
  45. میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیاعمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیاMunir Niazi (1928–2006)
  46. نام بے حد تھے مگر ان کا نشاں کوئی نہ تھابستیاں ہی بستیاں تھیں پاسباں کوئی نہ تھاMunir Niazi (1928–2006)
  47. نشیب وہم فراز گریز پا کے لیےحصار خاک ہے حد پر ہر انتہا کے لیےMunir Niazi (1928–2006)
  48. نگر میں شام ہو گئی ہے کاہش معاش میںزمیں پہ پھر رہے ہیں لوگ رزق کی تلاش میںMunir Niazi (1928–2006)
  49. نواح وسعت میداں میں حیرانی بہت ہےدلوں میں اس خرابی سے پریشانی بہت ہےMunir Niazi (1928–2006)
  50. نیل فلک کے اسم میں نقش اسیر کے سببحیرت ہے آب و خاک میں ماہ منیر کے سببMunir Niazi (1928–2006)