Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. عاشق ہوئے تو عشق میں ہشیار کیوں نہ تھےہم ان کے مدح خواں سر بازار کیوں نہ تھےVaris Kirmani (1927–2012)
  2. کھوئے ہوئے صحرا تک اے باد صبا جاناوہ خاک جنوں میری آنکھوں سے لگا جاناVaris Kirmani (1927–2012)
  3. لاکھ ناداں ہیں مگر اتنی سزا بھی نہ ملےچارہ سازوں کو مری شام بلا بھی نہ ملےVaris Kirmani (1927–2012)
  4. یہ قدم قدم کشاکش دل بے قرار کیا ہےجو یقیں نہ ہو عمل پر تو نشاط کار کیا ہےVaris Kirmani (1927–2012)
  5. اک ہوک سی جب دل میں اٹھی جذبات ہمارے آ پہنچےالفاظ جو ذہن میں موزوں تھے ہونٹوں کے کنارے آ پہنچےB S Jain Jauhar (b. 1927)
  6. پو پھٹی صبح ہوئی شام ہوئیزندگی بس یوں ہی تمام ہوئیB S Jain Jauhar (b. 1927)
  7. پہلے احباب تغافل کی صفائی دیں گےپھر مرے حق میں عدالت میں گواہی دیں گےB S Jain Jauhar (b. 1927)
  8. تمام رات چھتوں پر برس گیا پانیسویرا ہوتے ہی بستی میں بس گیا پانیB S Jain Jauhar (b. 1927)
  9. کیفیت دل حزیں ہم سے نہیں بیاں ہوئیلفظ نہ ساتھ دے سکے آنسوؤں سے عیاں ہوئیB S Jain Jauhar (b. 1927)
  10. گھٹا ساون کی امڈی آ رہی ہےپیام اشک بھر بھر لا رہی ہےB S Jain Jauhar (b. 1927)
  11. مرے دل سے محبت کی فراوانی نہیں جاتیمیں اکثر سوچتا ہوں کیوں یہ نادانی نہیں جاتیB S Jain Jauhar (b. 1927)
  12. نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میںآنکھیں برس رہی ہیں غم انتظار میںB S Jain Jauhar (b. 1927)
  13. تو طے ہوا نا کہ جب بھی لکھنا رتوں کے سارے عذاب لکھنااجاڑ موسم میں تپتے صحرا کو آب لکھنا حباب لکھناTahir Tonsvi (b. 1927)
  14. آ گئی یاد شام ڈھلتے ہیبجھ گیا دل چراغ جلتے ہیMunir Niazi (1928–2006)
  15. آئنہ اب جدا نہیں کرتاقید میں ہوں رہا نہیں کرتاMunir Niazi (1928–2006)
  16. آئی ہے اب یاد کیا رات اک بیتے سال کییہی ہوا تھی باغ میں یہی صدا گھڑیال کیMunir Niazi (1928–2006)
  17. ابھی مجھے اک دشت‌ صدا کی ویرانی سے گزرنا ہےایک مسافت ختم ہوئی ہے ایک سفر ابھی کرنا ہےMunir Niazi (1928–2006)
  18. اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہناجاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہناMunir Niazi (1928–2006)
  19. اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیاچاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیاMunir Niazi (1928–2006)
  20. اپنے گھر کو واپس جاؤ رو رو کر سمجھاتا ہےجہاں بھی جاؤں میرا سایہ پیچھے پیچھے آتا ہےMunir Niazi (1928–2006)
  21. اتنے خاموش بھی رہا نہ کروغم جدائی میں یوں کیا نہ کروMunir Niazi (1928–2006)
  22. اس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیااک اور شہر یار میں آنے نہیں دیاMunir Niazi (1928–2006)
  23. اس شہر سنگ دل کو جلا دینا چاہئےپھر اس کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہئےMunir Niazi (1928–2006)
  24. اس شہر کے یہیں کہیں ہونے کا رنگ ہےاس خاک میں کہیں کہیں سونے کا رنگ ہےMunir Niazi (1928–2006)
  25. اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھایہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھاMunir Niazi (1928–2006)
  26. اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستواس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستوMunir Niazi (1928–2006)
  27. اک تیز تیر تھا کہ لگا اور نکل گیاماری جو چیخ ریل نے جنگل دہل گیاMunir Niazi (1928–2006)
  28. اک عالم ہجراں ہی اب ہم کو پسند آیایہ خانۂ ویراں ہی اب ہم کو پسند آیاMunir Niazi (1928–2006)
  29. اک مسافت پاؤں شل کرتی ہوئی سی خواب میںاک سفر گہرا مسلسل زردیٔ مہتاب میںMunir Niazi (1928–2006)
  30. اگا سبزہ در و دیوار پر آہستہ آہستہہوا خالی صداؤں سے نگر آہستہ آہستہMunir Niazi (1928–2006)
  31. امتحاں ہم نے دیئے اس دار فانی میں بہترنج کھینچے ہم نے اپنی لا مکانی میں بہتMunir Niazi (1928–2006)
  32. ان سے نین ملا کے دیکھویہ دھوکا بھی کھا کے دیکھوMunir Niazi (1928–2006)
  33. اور ہیں کتنی منزلیں باقیجان کتنی ہے جسم میں باقیMunir Niazi (1928–2006)
  34. ایک میں اور اتنے لاکھوں سلسلوں کے سامنےایک صوت گنگ جیسے گنبدوں کے سامنےMunir Niazi (1928–2006)
  35. ایک نگر کے نقش بھلا دوں ایک نگر ایجاد کروںایک طرف خاموشی کر دوں ایک طرف آباد کروںMunir Niazi (1928–2006)
  36. بس ایک ماہ جنوں خیز کی ضیا کے سوانگر میں کچھ نہیں باقی رہا ہوا کے سواMunir Niazi (1928–2006)
  37. بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنےمیں ہی بس ہوتا ہوں اس کی اس ادا کے سامنےMunir Niazi (1928–2006)
  38. بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنااک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہناMunir Niazi (1928–2006)
  39. بے حقیقت دوریوں کی داستاں ہوتی گئییہ زمیں مثل سراب آسماں ہوتی گئیMunir Niazi (1928–2006)
  40. بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیااپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیاMunir Niazi (1928–2006)
  41. بے گانگی کا ابر گراں بار کھل گیاشب میں نے اس کو چھیڑا تو وہ یار کھل گیاMunir Niazi (1928–2006)
  42. پھول تھے بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھیدل میں لیکن اور ہی اک شکل کی حسرت بھی تھیMunir Niazi (1928–2006)
  43. پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھاوہ اس کا سایہ تھا کہ وہی رشک حور تھاMunir Niazi (1928–2006)
  44. تجھ سے بچھڑ کر کیا ہوں میں اب باہر آ کر دیکھہمت ہے تو میری حالت آنکھ ملا کر دیکھMunir Niazi (1928–2006)
  45. تھکن سے راہ میں چلنا محال بھی ہے مجھےکمال پر بھی تھا میں ہی زوال بھی ہے مجھےMunir Niazi (1928–2006)
  46. تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوںمیں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوںMunir Niazi (1928–2006)
  47. تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملیان بستیوں میں ہم کو رفاقت نہیں ملیMunir Niazi (1928–2006)
  48. جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیںکیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیںMunir Niazi (1928–2006)
  49. جفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میںوفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میںMunir Niazi (1928–2006)
  50. جو دیکھے تھے جادو ترے ہات کےہیں چرچے ابھی تک اسی بات کےMunir Niazi (1928–2006)