Poetry
Poet
Meter
- عاشق ہوئے تو عشق میں ہشیار کیوں نہ تھےہم ان کے مدح خواں سر بازار کیوں نہ تھےVaris Kirmani (1927–2012)
- کھوئے ہوئے صحرا تک اے باد صبا جاناوہ خاک جنوں میری آنکھوں سے لگا جاناVaris Kirmani (1927–2012)
- لاکھ ناداں ہیں مگر اتنی سزا بھی نہ ملےچارہ سازوں کو مری شام بلا بھی نہ ملےVaris Kirmani (1927–2012)
- یہ قدم قدم کشاکش دل بے قرار کیا ہےجو یقیں نہ ہو عمل پر تو نشاط کار کیا ہےVaris Kirmani (1927–2012)
- اک ہوک سی جب دل میں اٹھی جذبات ہمارے آ پہنچےالفاظ جو ذہن میں موزوں تھے ہونٹوں کے کنارے آ پہنچےB S Jain Jauhar (b. 1927)
- پو پھٹی صبح ہوئی شام ہوئیزندگی بس یوں ہی تمام ہوئیB S Jain Jauhar (b. 1927)
- پہلے احباب تغافل کی صفائی دیں گےپھر مرے حق میں عدالت میں گواہی دیں گےB S Jain Jauhar (b. 1927)
- تمام رات چھتوں پر برس گیا پانیسویرا ہوتے ہی بستی میں بس گیا پانیB S Jain Jauhar (b. 1927)
- کیفیت دل حزیں ہم سے نہیں بیاں ہوئیلفظ نہ ساتھ دے سکے آنسوؤں سے عیاں ہوئیB S Jain Jauhar (b. 1927)
- گھٹا ساون کی امڈی آ رہی ہےپیام اشک بھر بھر لا رہی ہےB S Jain Jauhar (b. 1927)
- مرے دل سے محبت کی فراوانی نہیں جاتیمیں اکثر سوچتا ہوں کیوں یہ نادانی نہیں جاتیB S Jain Jauhar (b. 1927)
- نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میںآنکھیں برس رہی ہیں غم انتظار میںB S Jain Jauhar (b. 1927)
- تو طے ہوا نا کہ جب بھی لکھنا رتوں کے سارے عذاب لکھنااجاڑ موسم میں تپتے صحرا کو آب لکھنا حباب لکھناTahir Tonsvi (b. 1927)
- آ گئی یاد شام ڈھلتے ہیبجھ گیا دل چراغ جلتے ہیMunir Niazi (1928–2006)
- آئنہ اب جدا نہیں کرتاقید میں ہوں رہا نہیں کرتاMunir Niazi (1928–2006)
- آئی ہے اب یاد کیا رات اک بیتے سال کییہی ہوا تھی باغ میں یہی صدا گھڑیال کیMunir Niazi (1928–2006)
- ابھی مجھے اک دشت صدا کی ویرانی سے گزرنا ہےایک مسافت ختم ہوئی ہے ایک سفر ابھی کرنا ہےMunir Niazi (1928–2006)
- اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہناجاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہناMunir Niazi (1928–2006)
- اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیاچاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیاMunir Niazi (1928–2006)
- اپنے گھر کو واپس جاؤ رو رو کر سمجھاتا ہےجہاں بھی جاؤں میرا سایہ پیچھے پیچھے آتا ہےMunir Niazi (1928–2006)
- اتنے خاموش بھی رہا نہ کروغم جدائی میں یوں کیا نہ کروMunir Niazi (1928–2006)
- اس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیااک اور شہر یار میں آنے نہیں دیاMunir Niazi (1928–2006)
- اس شہر سنگ دل کو جلا دینا چاہئےپھر اس کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہئےMunir Niazi (1928–2006)
- اس شہر کے یہیں کہیں ہونے کا رنگ ہےاس خاک میں کہیں کہیں سونے کا رنگ ہےMunir Niazi (1928–2006)
- اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھایہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھاMunir Niazi (1928–2006)
- اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستواس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستوMunir Niazi (1928–2006)
- اک تیز تیر تھا کہ لگا اور نکل گیاماری جو چیخ ریل نے جنگل دہل گیاMunir Niazi (1928–2006)
- اک عالم ہجراں ہی اب ہم کو پسند آیایہ خانۂ ویراں ہی اب ہم کو پسند آیاMunir Niazi (1928–2006)
- اک مسافت پاؤں شل کرتی ہوئی سی خواب میںاک سفر گہرا مسلسل زردیٔ مہتاب میںMunir Niazi (1928–2006)
- اگا سبزہ در و دیوار پر آہستہ آہستہہوا خالی صداؤں سے نگر آہستہ آہستہMunir Niazi (1928–2006)
- امتحاں ہم نے دیئے اس دار فانی میں بہترنج کھینچے ہم نے اپنی لا مکانی میں بہتMunir Niazi (1928–2006)
- ان سے نین ملا کے دیکھویہ دھوکا بھی کھا کے دیکھوMunir Niazi (1928–2006)
- اور ہیں کتنی منزلیں باقیجان کتنی ہے جسم میں باقیMunir Niazi (1928–2006)
- ایک میں اور اتنے لاکھوں سلسلوں کے سامنےایک صوت گنگ جیسے گنبدوں کے سامنےMunir Niazi (1928–2006)
- ایک نگر کے نقش بھلا دوں ایک نگر ایجاد کروںایک طرف خاموشی کر دوں ایک طرف آباد کروںMunir Niazi (1928–2006)
- بس ایک ماہ جنوں خیز کی ضیا کے سوانگر میں کچھ نہیں باقی رہا ہوا کے سواMunir Niazi (1928–2006)
- بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنےمیں ہی بس ہوتا ہوں اس کی اس ادا کے سامنےMunir Niazi (1928–2006)
- بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنااک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہناMunir Niazi (1928–2006)
- بے حقیقت دوریوں کی داستاں ہوتی گئییہ زمیں مثل سراب آسماں ہوتی گئیMunir Niazi (1928–2006)
- بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیااپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیاMunir Niazi (1928–2006)
- بے گانگی کا ابر گراں بار کھل گیاشب میں نے اس کو چھیڑا تو وہ یار کھل گیاMunir Niazi (1928–2006)
- پھول تھے بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھیدل میں لیکن اور ہی اک شکل کی حسرت بھی تھیMunir Niazi (1928–2006)
- پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھاوہ اس کا سایہ تھا کہ وہی رشک حور تھاMunir Niazi (1928–2006)
- تجھ سے بچھڑ کر کیا ہوں میں اب باہر آ کر دیکھہمت ہے تو میری حالت آنکھ ملا کر دیکھMunir Niazi (1928–2006)
- تھکن سے راہ میں چلنا محال بھی ہے مجھےکمال پر بھی تھا میں ہی زوال بھی ہے مجھےMunir Niazi (1928–2006)
- تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوںمیں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوںMunir Niazi (1928–2006)
- تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملیان بستیوں میں ہم کو رفاقت نہیں ملیMunir Niazi (1928–2006)
- جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیںکیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیںMunir Niazi (1928–2006)
- جفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میںوفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میںMunir Niazi (1928–2006)
- جو دیکھے تھے جادو ترے ہات کےہیں چرچے ابھی تک اسی بات کےMunir Niazi (1928–2006)