Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- بہت قریب تھا پر مہرباں نہ تھا میرابھری بہار میں اک آشیاں نہ تھا میراSabeenSaif
- تجھے بھلانے کی اب جستجو نہیں کرتےکہ اب کسی سے تری گفتگو نہیں کرتےSabeenSaif
- لکھا تھا نام جو اک شام کورے کاغذ پروہ نام کیوں ہوا بدنام کورے کاغذ پرSabeenSaif
- شب وصال مزا دے رہی ہے تو تیریلبوں سے گھولتی ہے قند گفتگو تیریسرور جہاں آبادی
- بلبل و پروانہسرور جہاں آبادی
- شمیم یار نہ جب تک چمن میں چھو آئےنہ رنگ آئے کسی پھول میں نہ بو آئےامیر اللہ تسلیم
- امید و بیم کے عالم میں دل دہلتا ہےوہ آتے آتے کئی راستے بدلتا ہےHabab Hashmi
- جب اس سے ترک ملاقات کا ارادہ کیاتب اس نے دامن دل کو ذرا کشادہ کیاHabab Hashmi
- سنی سنائی وہ آواز مر ہی جانے دوصدی کا غم ہے تو لمحے بکھر ہی جانے دوHabab Hashmi
- کسے بتائیں کہ زاد سفر گیا کب کارہا ہی کیا ہے غم معتبر گیا کب کاHabab Hashmi
- بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دیناجنوں ذرا مری زنجیر کو ہلا دینااشرف علی فغاں
- عبث عبث تجھے مجھ سے حجاب آتا ہےترے لیے کوئی خانہ خراب آتا ہےاشرف علی فغاں
- ابھرتے ڈوبتے تاروں کے بھید کھولے گافصیل شب سے اتر کر کوئی تو بولے گاZafar Ghauri
- سزا ملی ہے بکھرنے کی اور سمٹنے کیخطا ہوئی تھی ہواؤں سے کل لپٹنے کیZafar Ghauri
- ہمکتی کونپلوں کو خشک گھاس کر دے گیہوا درختوں کو پھر بے لباس کر دے گیZafar Ghauri
- اداسیوں کا مسلسل یہ دور چلنا ہےنہ کوئی حادثہ ہونا نہ جی بہلنا ہےAah Sambhali
- تعلقات مسلسل بھی تازیانے تھےوہ دھاگے ٹوٹ گئے جو بہت پرانے تھےAah Sambhali
- مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤںورق ورق ہوں کسی دن کتاب بن جاؤںAah Sambhali
- وہ واہمہ ہے کہاں یہ اصول جانا تھاملے تھے اس سے تو پھر اس کو بھول جانا تھاAah Sambhali
- یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیںمحبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیںAah Sambhali
- اسی زمین پہ ناچار لوٹ کر آئےجو آسمان سے اونچی اڑان بھر آئےBadr-e-Alam Khan Azmi
- بصد فریب اسے کیا سے کیا دکھائی دےکہ ابتدا میں جسے انتہا دکھائی دےBadr-e-Alam Khan Azmi
- بقا کے ساتھ انا کا سوال آتا ہےکسی عروج پہ جب بھی زوال آتا ہےBadr-e-Alam Khan Azmi
- تمام قہر و بلا سے ہے واسطہ میراہر ایک حادثہ لگتا ہے حادثہ میراBadr-e-Alam Khan Azmi
- خود آگہی نے لہو میں ڈبو دیا مجھ کوشعور ذات کی ایسی ملی سزا مجھ کوBadr-e-Alam Khan Azmi
- فلک سے چل کے یہاں ماہتاب آئے گاہمارے پاس کوئی بے نقاب آئے گاBadr-e-Alam Khan Azmi
- الم کی حد ہے کہاں بے کسی کہاں تک ہےہمارے غم میں تمہاری خوشی کہاں تک ہےEhsas Muradabadi
- گماں نہ کیونکہ کروں تجھ پہ دل چرانے کاجھکا کے آنکھ سبب کیا ہے مسکرانے کاممنون نظام الدین
- رہے ہے روکش نشتر ہر آبلہ دل کایہ حوصلہ ہے کوئی بلبے حوصلہ دل کاممنون نظام الدین
- سمایا جب سے ہے وہ گلعذار آنکھوں میںہر ایک گل نظر آتا ہے خار آنکھوں میںمنشی شیو پرشاد وہبی
- پھری ہے کیوں نگہ دل ربا نہیں معلومہے اس ادا میں بھی کس کی قضا نہیں معلوممنشی ٹھاکر پرساد طالب
- نظر میں آ گئی جب سے جناب کی صورتبدل گئی دل خانہ خراب کی صورتQamar Hilali
- نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھیلگے ہوئے تھے امیدوں کو میری پر پھر بھیYasmin Husaini Zaidi Nikhat
- کہا جو ان سے کہ اب بے قرار ہم بھی ہیںتو ہنس کے کہتے ہیں بے اختیار ہم بھی ہیںZabt Sitapuri
- کہیں نباہ کی صورت نہیں زمانے میںقفس میں چین نہ راحت ہے آشیانے میںZabt Sitapuri
- نہ جانے وعدے کا کیوں اعتبار اب بھی ہےگزر گئی ہے شب اور انتظار اب بھی ہےZabt Sitapuri
- رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرحگرہ میں رکھتے ہیں ہم آبرو گہر کی طرحامانت لکھنوی
- اجاڑ دوں میں یہ دنیا وہ زور ہے مجھ میںکئی اداس ہواؤں کا شور ہے مجھ میںFaisal Fehmi
- جہاں نہ دوست نہ گلچیں نہ باغباں میراپھر اس چمن میں رہے کیونکر آشیاں میرامحمود رامپوری
- ہماری طرز شکایت کسی کو کیا معلومتمہارا رنگ طبیعت کسی کو کیا معلومNabiul Hasan Shamim
- تری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتےجو تیرے در پہ ہیں وہ در بدر نہیں جاتےنسیم میسوری
- جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیامری وفا کا اسے اعتبار کیوں آیاشوق قدوائی
- وہ لے کے دل کو یہ سوچی کہیں جگر بھی ہےنظر ٹٹول رہی ہے کہ کچھ ادھر بھی ہےشوق قدوائی
- تمہارے وصل کا بس انتظار باقی ہےمیں رنگ رنگ ہوں لیکن سنگھار باقی ہےYasmeen Habeeb
- کسی کشش کے کسی سلسلے کا ہونا تھاہمیں بھی آخرش اک دائرے کا ہونا تھاYasmeen Habeeb
- وہ زخم پھر سے ہرا ہے نشاں نہ تھا جس کاہوئی ہے رات وہ بارش گماں نہ تھا جس کاYasmeen Habeeb
- یہ کمرہ اور یہ گرد و غبار اس کا ہےوہ جس نے آنا نہیں انتظار اس کا ہےYasmeen Habeeb
- پھرے ہیں دھن میں تری ہم ادھر ادھر تنہاتجھے تلاش کیا ہے نگر نگر تنہاZafar Akbarabadi
- کبھی اسے تو کبھی خود کو دیکھتے رہنااسی مدار میں دن رات گھومتے رہناZafar Akbarabadi
- کسی کی پرشش غم بار ہو گئی ہوگیتمام دکھ ہمہ آزار ہو گئی ہوگیZafar Akbarabadi