اجاڑ دوں میں یہ دنیا وہ زور ہے مجھ میں

Faisal Fehmi

اجاڑ دوں میں یہ دنیا وہ زور ہے مجھ میں

کئی اداس ہواؤں کا شور ہے مجھ میں

میں اپنے آپ کا سب سے بڑا مخالف ہوں

مری ہی طرح کا اک شخص اور ہے مجھ میں

میں رقص گاہ جنوں عشق کی ہوں روح رواں

ترے بھی جسم کے جنگل کا مور ہے مجھ میں

یہ کہہ کے اس نے مری وحشتوں کو تھام لیا

ترے دھڑکتے ہوئے دل کی ڈور ہے مجھ میں

عجب نہیں کہ مجھے لوگ پوجنے لگ جائیں

زمانے بھر کے خداؤں کی گور ہے مجھ میں