خود آگہی نے لہو میں ڈبو دیا مجھ کو
Badr-e-Alam Khan Azmiخود آگہی نے لہو میں ڈبو دیا مجھ کو
شعور ذات کی ایسی ملی سزا مجھ کو
مثال گوہر نایاب زیر آب رہا
یہ آرزو تھی سمندر اچھالتا مجھ کو
میں ٹمٹماتا ہوا تیرگی سے لڑتا رہا
تلاش کرتی رہی سر پھری ہوا مجھ کو
وہ بے شمار دفینے نہ یوں پڑے رہتے
اگر زمانہ سلیقے سے کھودتا مجھ کو
ملا کسی کو سکوت دوام و بے خبری
لہو میں ڈوبا ہوا یہ قلم ملا مجھ کو
جبیں پہ کیا کیا تحریر خامۂ حق نے
کہ آگہی بھی سمجھتی ہے سر پھرا مجھ کو
میں ہارتا ہی گیا زندگی کی ہر بازی
شکست دیتی رہی عمر بھر انا مجھ کو
چٹخ رہا ہے بدن اور دھواں دھواں ہے دل
کسی نے دی ہے سلگنے کی بد دعا مجھ کو
قصور میرا یہی تھا کہ بے قصور تھا میں
امیر شہر نے پھر بھی جلا دیا مجھ کو
یہاں وہاں سر بازار خوں بہا میرا
عجیب ہے کہ چکانا ہے خوں بہا مجھ کو
اگر میں درد سے چیخوں تو ہے اداکاری
دکھاؤں زخم تو کہتے ہیں خود نما مجھ کو
میں اپنے ہاتھ میں اپنا بریدہ سر لے کر
چلا تو روک رہی تھی کوئی صدا مجھ کو
کبھی چراغ جلاؤں تو کانپ جاتا ہوں
ہر ایک آگ سے لگتا ہے خوف سا مجھ کو
بہ فضل آبلہ پائی بہ فیض تشنہ لبی
سراب ڈھونڈھ رہا ہے برہنہ پا مجھ کو
ابھی محل کے در و بام نا مکمل ہیں
یہ کس نے خواب سے آ کر جگا دیا مجھ کو
ہر انکشاف پہ حیرت زدہ کھڑا رہتا
اگر وہ بیٹھ کے فرصت میں سوچتا مجھ کو
نہ جانے کب سے ہے اس پار دیکھنے کی ہوس
فصیل ذات سے اوپر ذرا اٹھا مجھ کو