اسی زمین پہ ناچار لوٹ کر آئے
Badr-e-Alam Khan Azmiاسی زمین پہ ناچار لوٹ کر آئے
جو آسمان سے اونچی اڑان بھر آئے
ہے میرے خون میں شامل مرا سگا بھائی
مجھے ہے خوف نہ الزام میرے سر آئے
یہ دوستوں کی نوازش ہے ایک بار گراں
بڑے خلوص سے دشمن کا کام کر آئے
سمجھ گئے وہ نشیب و فراز کے اسرار
بلند کوہ کی چوٹی سے جو اتر آئے
بڑی عجیب توقع ہے میری دشمن سے
اگر میں روؤں تو اس کی بھی آنکھ بھر آئے
ندائے وقت خبردار کر گئی مجھ کو
گئے جو کوہ ندا پر وہ بے خبر آئے
اٹھا کے ہاتھ یہ موسم نے بد دعا دی ہے
کہ اب کے فصل جو آئے وہ بے ثمر آئے
لرز اٹھی تھی اک عفریت سے گزشتہ صدی
عجیب شکل بنائے ہوئے صفر آئے
نہ جانے کونسا رشتہ ہے یہ تباہی کا
کہ حادثات پلٹ کر ہمارے گھر آئے
یہ کوئی عیب ہے یا انتہا محبت کی
کہ آئنے میں مجھے عکس دو نظر آئے