کہیں نباہ کی صورت نہیں زمانے میں

Zabt Sitapuri

کہیں نباہ کی صورت نہیں زمانے میں

قفس میں چین نہ راحت ہے آشیانے میں

بسے چمن میں تھے اڑ کر قفس میں جا پہونچے

کشش عجیب ہے قسمت کے آب و دانے میں

پھرا نصیب تو دنیا نے پھیر لیں آنکھیں

شریک حال نہیں کوئی بھی زمانے میں

کسے سنائیں سنے کون کیا پڑی کس کو

بلا کا درد بھرا ہے مرے فسانے میں

چھپیں گے اہل نظر سے یہاں وہاں کب تک

کبھی تو آئیں گے دل کے نگار خانے میں

کہیں سکون نہیں ضبط ڈھونڈھتے کیا ہو

غبار چھایا ہے دنیا کے کارخانے میں