جب اس سے ترک ملاقات کا ارادہ کیا
Habab Hashmiجب اس سے ترک ملاقات کا ارادہ کیا
تب اس نے دامن دل کو ذرا کشادہ کیا
بس اک نگاہ سے اس کی سدا رہے مخمور
کبھی نہ جام اٹھایا نہ شغل بادہ کیا
فریب دے کے بھی اس کا قصور کم ہی رہا
کہ ہم نے اس پہ بھروسہ بھی کچھ زیادہ کیا
شرافت اور نجابت کا اس کو غرہ ہے
حسب نسب سے سوا ذکر خانوادہ کیا
جہان شعر و ادب میں ہمارا ذکر بھی ہے
کہ ہم نے میرؔ سے غالبؔ سے استفادہ کیا
مری غیور طبیعت پہ اس کو حیرت ہے
کہ عرض شوق کا اس سے نہ پھر اعادہ کیا
یہ اور بات کہ ناکامیاں مقدر تھیں
حبابؔ جو بھی کیا ہم نے بالارادہ کیا