وہ زخم پھر سے ہرا ہے نشاں نہ تھا جس کا
Yasmeen Habeebوہ زخم پھر سے ہرا ہے نشاں نہ تھا جس کا
ہوئی ہے رات وہ بارش گماں نہ تھا جس کا
ہوائیں خود اسے ساحل پہ لا کے چھوڑ گئیں
وہ ایک ناؤ کوئی بادباں نہ تھا جس کا
کشید کرتا رہا ہجرتوں سے درد کی مے
کوئی تو تھا کہ کہیں ہم زباں نہ تھا جس کا
اسی کے دم سے تھی رونق تمام بستی میں
کہ خندہ لب تھا مگر غم عیاں نہ تھا جس کا
جلی تو یوں کہ ہوا راکھ انگ انگ مرا
عجیب آگ تھی کوئی دھواں نہ تھا جس کا