سنی سنائی وہ آواز مر ہی جانے دو

Habab Hashmi

سنی سنائی وہ آواز مر ہی جانے دو

صدی کا غم ہے تو لمحے بکھر ہی جانے دو

میں اپنی جان کی بازی لگائے بیٹھا ہوں

ہر اک بلا مرے سر سے گزر ہی جانے دو

لہو کے چھینٹوں سے ہو جائے گی فضا گلنار

ہمارے سینے میں خنجر اتر ہی جانے دو

یہ انتشار کا عالم یہ پر خطر ماحول

عزیزو کاکل گیتی سنور ہی جانے دو

تمہیں بھلانے سے دل کو سکون ملتا ہے

تم اپنی یادوں کے یہ زخم بھر ہی جانے دو

حبابؔ سب کے لئے ایک درس عبرت ہے

اسے بھی چند گھڑی کو ابھر ہی جانے دو