ہماری طرز شکایت کسی کو کیا معلوم

Nabiul Hasan Shamim

ہماری طرز شکایت کسی کو کیا معلوم

تمہارا رنگ طبیعت کسی کو کیا معلوم

ہر ایک خون کے قطرہ میں ہے تری تصویر

یہ انتہائے محبت کسی کو کیا معلوم

ہمارے اشک ندامت پروئے جائیں گے

بنے گا دامن رحمت کسی کو کیا معلوم

جو دل بھی دیتے ہیں ہم نام تک نہیں لیتے

ہماری شان مروت کسی کو کیا معلوم

تجلیوں نے کیا انتخاب دل میرا

مجھے ملی ہے جو دولت کسی کو کیا معلوم

خدا کی یاد میں ہر وقت محو رہتا ہے

دل شمیمؔ کی حالت کسی کو کیا معلوم