جہاں نہ دوست نہ گلچیں نہ باغباں میرا

محمود رامپوری

جہاں نہ دوست نہ گلچیں نہ باغباں میرا

پھر اس چمن میں رہے کیونکر آشیاں میرا

شریک حال برے وقت میں یہ ہوتا ہے

سوائے غم کے نہیں کوئی مہرباں میرا

الٰہی خانۂ صیاد پر گرے بجلی

کہ فصل گل میں جلایا ہے آشیاں میرا

کچھ آج کل کے ستم کا گلہ نہیں اس سے

ازل کے روز سے دشمن ہے آسماں میرا

تمہارے غم کے سوا میری جان دنیا میں

نہ کوئی دوست ہے میرا نہ مہرباں میرا

نہ خوف چرخ کا پھر ہو نہ غیر کا کھٹکا

جو تم ہو میرے تو جانو کہ ہے جہاں میرا

وہ فاش کرتا ہے پردہ تو یہ چھپاتی ہے

زمین دوست ہے دشمن ہے آسماں میرا

زباں وہ داغؔ کے صدقے میں پائی ہے محمودؔ

کہ شاعری میں نہیں کوئی ہم زباں میرا