پھرے ہیں دھن میں تری ہم ادھر ادھر تنہا

Zafar Akbarabadi

پھرے ہیں دھن میں تری ہم ادھر ادھر تنہا

تجھے تلاش کیا ہے نگر نگر تنہا

ہمارے ساتھ سبھی ہیں مگر کوئی بھی نہیں

ہم انجمن میں ہیں بیٹھے ہوئے مگر تنہا

گواہ ہیں رہ شوق و طلب کے سناٹے

کیا ہے ہم نے یہ صبر آزما سفر تنہا

چلے گئے ہیں نجانے کہاں شریک سفر

مجھے حیات کی راہوں میں چھوڑ کر تنہا

بہت دنوں سے نہیں تو رفیق دیدہ و دل

بہت دنوں سے اکیلا ہے دل، نظر تنہا

بھلانے والے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے

ترے بغیر ہے کب سے ترا ظفرؔ تنہا