بصد فریب اسے کیا سے کیا دکھائی دے
Badr-e-Alam Khan Azmiبصد فریب اسے کیا سے کیا دکھائی دے
کہ ابتدا میں جسے انتہا دکھائی دے
کبھی تو کوہ گراں تک نظر نہیں آئے
کبھی ہوا کا مجھے نقش پا دکھائی دے
تمام رشتوں کی بنیاد ہلنے لگتی ہے
جب آئنے میں کوئی دوسرا دکھائی دے
تلاش کرتی ہے دنیا اسی کے نقش قدم
وہی جو بھیڑ میں سب سے جدا دکھائی دے
یہ ہے ہماری سیاست کہ دل پڑوسی کا
ہمارے دل میں دھڑکتا ہوا دکھائی دے
فلک کو تاکتے اس نے گزار دیں صدیاں
اسے امید تھی شاید خدا دکھائی دے
یہاں فرات ہے گنگا ہے اور جمنا بھی
قدم قدم پہ مگر کربلا دکھائی دے
یہ شہر شہر خموشاں ہے اہل دانش کا
کہیں تو ایک کوئی سر پھرا دکھائی دے
یہ وقت کا ہے تقاضہ کہ ہے فریب نظر
کہ بیٹا باپ کے قد سے بڑا دکھائی دے
نہ جانے کیسا نشہ ہے غزل کہ تاج محل
کبھی ردیف کبھی قافیہ دکھائی دے