نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھی

Yasmin Husaini Zaidi Nikhat

نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھی

لگے ہوئے تھے امیدوں کو میری پر پھر بھی

تمہاری یاد سے وابستہ ہے حیات مری

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

تم اپنے گرد فصیلیں بنا کے بیٹھے ہو

ہوا تو ہوگا مری یاد کا گزر پھر بھی

چراغ آنکھوں کے ویران ہوتے جاتے ہیں

تمہاری راہ سے اٹھتی نہیں نظر پھر بھی

تمام روپ لیے چاندنی چلی آئی

ہمارا دل رہا تاریک ایک گھر پھر بھی

نہ روشنی ہے کوئی اور نہ راستے معلوم

چلے ہیں آج ترے ساتھ بے خطر پھر بھی

تمام عمر دیا میں نے اپنا خون جگر

ملا نہ مجھ کو کوئی سایۂ شجر پھر بھی

بہت تھی چاہ دل ناتواں رک جائے

طویل ہوتا گیا عمر کا سفر پھر بھی