کسی کشش کے کسی سلسلے کا ہونا تھا
Yasmeen Habeebکسی کشش کے کسی سلسلے کا ہونا تھا
ہمیں بھی آخرش اک دائرے کا ہونا تھا
ابھی سے اچھا ہوا رات سو گئی ورنہ
کبھی تو ختم سفر رت جگے کا ہونا تھا
برہنہ تن بڑی گزری تھی زندگی اپنی
لباس ہم کو ہی اک دوسرے کا ہونا تھا
ہم اپنا دیدۂ بینا پہن کے نکلے تھے
سڑک کے بیچ کسی حادثے کا ہونا تھا
ہمارے پاؤں سے لپٹی ہوئی قیامت تھی
قدم قدم پہ کسی زلزلے کا ہونا تھا
ہم اپنے سامنے ہر لمحہ مرتے رہتے تھے
ہمارے دل میں کسی مقبرے کا ہونا تھا
تمام رات بلاتا رہا ہے اک تارہ
افق کے پار کسی معجزے کا ہونا تھا
کسی کے سامنے اٹھی نظر تو بہہ نکلا
ہماری آنکھ میں کیا آبلے کا ہونا تھا
حصار شہر سے باہر نکل ہی آئے ہیں
کبھی ہمیں بھی کسی راستے کا ہونا تھا