کسی کی پرشش غم بار ہو گئی ہوگی

Zafar Akbarabadi

کسی کی پرشش غم بار ہو گئی ہوگی

تمام دکھ ہمہ آزار ہو گئی ہوگی

شدید موت کی یلغار ہو گئی ہوگی

حیات ریت کی دیوار ہو گئی ہوگی

وہ ایک چیز شرافت سے جو عبارت ہے

ہماری رات کی دیوار ہو گئی ہوگی

حدیث دل لب اظہار کے توسط سے

حدیث کوچہ و بازار ہو گئی ہوگی

طبیعت اپنی جو آزار سے نہیں بھرتی

حریص لذت آزار ہو گئی ہوگی

اٹھی جو ہوگی کبھی دل سے کوئی درد کی لہر

حریف دیدۂ خوں بار ہو گئی ہوگی

جو ہم پہ سایۂ ادبار ہے تو سست ضرور

ہمارے کام کی رفتار ہو گئی ہوگی

یہ ذلتوں کی جو بھر مار ہے تو اپنی خطا

اسی سزا کی سزاوار ہو گئی ہوگی

جواب میں مری کوتاہ دستیوں کے ظفرؔ

بلند اور وہ دیوار ہو گئی ہوگی