Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. میں نے سوچا ہی نہیں مر کے کدھر جاؤں گامیں تو مانند صبا یاں سے گزر جاؤں گاPanna Lal Noor
  2. گردن شیشہ جھکا دے مرے پیمانے پرسن برستا رہے ساقی ترے میخانے پرQadr Bilgrami
  3. کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہےکس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہےTabish Kamal
  4. اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئیپھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئیآسی غازی پوری
  5. اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقیحشر تک ورنہ رہے گی شب یلدا باقیعاشق اکبرآبادی
  6. گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیںدل کی سوئی ہوئی حسرت کو جگا دیتے ہیںعاشق اکبرآبادی
  7. وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیںہم یہاں عیش کا سامان کئے بیٹھے ہیںعاشق اکبرآبادی
  8. فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سےاور پھر سامنے آنے میں ہے گھونگھٹ ہم سےعاشق اکبرآبادی
  9. ذہن اور دل میں جو رہتی ہے چبھن کھل جائےآئے کاغذ پہ تو سلمائے سخن کھل جائےBadr Wasti
  10. اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میںمیں جو رویا تو کوئی ہنستا رہا تھا مجھ میںEjaz Obaid
  11. تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھیساتھ میرے چلی آئی وہ صدا کس کی تھیEjaz Obaid
  12. نازنینان جہاں شعبدہ گر پکے ہیںدیکھنے کو تو یہ بھولے ہیں مگر پکے ہیںعزیز حیدرآبادی
  13. وحشت دل کا عجب رنگ نظر آتا ہےعرصۂ حشر مجھے تنگ نظر آتا ہےعزیز حیدرآبادی
  14. نہ بدلنا تھا نہ بدلا دل شیدا اپنارنگ ہر وقت بدلتی رہی دنیا اپناعزیز حیدرآبادی
  15. حق کہا دار پہ جس نے وہ بشر کیسا تھاسچ بتاؤ مجھے وہ اہل نظر کیسا تھاBadr Jamali
  16. بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کیوسعتیں ان میں وہی لائے ہیں ویرانوں کیمختار صدیقی
  17. پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگازخم دیرینہ سے پھر خون ٹپکتا ہوگامختار صدیقی
  18. شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کےدل دھڑکتے ہی رہے آس میں انسانوں کےمختار صدیقی
  19. کی شب حشر مری شام جوانی تم نےچھیڑی کس دور کی کس وقت کہانی تم نےمختار صدیقی
  20. رات کی باتمختار صدیقی
  21. دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیںکچھ تجلی کی حضوری کا بھی یارا کر لیںمختار صدیقی
  22. آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیںمیرے احساس میں سو درد اتر جاتے ہیںSabeenSaif
  23. عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتاہر تعلق کو نبھایا تو نہیں جا سکتاSabeenSaif
  24. ظرف تو دیکھیے میرے دل شیدائی کاجام مے بن گیا اک مست خود آرائی کاشرف مجددی
  25. ہر جفا ان کی ہوئی ہم کو وفا سے بڑھ کراب نکالیں وہ کوئی ظلم جفا سے بڑھ کرشرف مجددی
  26. اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہےحسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہےVahshi Kanpuri
  27. وصل میں بگڑے بنے یار کے اکثر گیسوالجھے سلجھے مری تقدیر سے شب بھر گیسوامیر اللہ تسلیم
  28. اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہےاک چراغ اور سر راہ گزر باقی ہےHabab Hashmi
  29. جذبۂ شوق نے یوں داد وفا پائی ہےکھنچ کے منزل مرے قدموں میں چلی آئی ہےHabab Hashmi
  30. جب تری بزم سے اٹھ کر کوئی ناشاد آیااپنے انجام کا آغاز مجھے یاد آیاTahavvur Ali Zaidi
  31. بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہےدامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہےاشرف علی فغاں
  32. دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کاتیرے مجنوں کو کہاں پاس ہے رسوائی کااشرف علی فغاں
  33. عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہےایک میں آپ ہوں یا گوشۂ تنہائی ہےاشرف علی فغاں
  34. دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گادشت بے سمت میں اک ہو کا مقام آئے گاZafar Ghauri
  35. شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوںٹوٹا تارہ ہوں خلاؤں سے اتر آیا ہوںZafar Ghauri
  36. اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہےہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہےAah Sambhali
  37. جاگنا سائے میں اور دھوپ میں سونا اس کااس کے احساس سے ثابت تھا نہ ہونا اس کاAah Sambhali
  38. وہ تو ہے دشمن جاں داد وفا کیا دے گاجو کبھی زہر نہ دے پایا دوا کیا دے گاAah Sambhali
  39. دست قاتل میں کوئی تیغ نہ خنجر ہوتامرا سایہ جو مرے قد کے برابر ہوتاBadr-e-Alam Khan Azmi
  40. شور انگیز وہ خوں بار ہوا بھی آئےاور دبے پاؤں کبھی باد صبا بھی آئےBadr-e-Alam Khan Azmi
  41. کتنا بے چین ہے خاموش سمندر دیکھودل کی گہرائی میں اک روز اتر کر دیکھوBadr-e-Alam Khan Azmi
  42. کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کاشمع نے لوٹ لیا سوز بھی پروانے کاباسط بھوپالی
  43. ہر طرف سوز کا انداز جداگانہ ہےمطمئن شمع ہے یا رقص میں پروانہ ہےباسط بھوپالی
  44. اتش حسن بھری ہے تیرے رخساروں میںکون منہ مارے دہکتے ہوئے انگاروں میںبوم میرٹھی
  45. اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کیتوڑ کے پھینک دیں سب کھڈیاں پاخانے کیبوم میرٹھی
  46. تم سمجھتے ہو زمانے کے لئے آتا تھامیں تمہیں شعر سنانے کے لئے آتا تھاEhsanul Haq Mazhar
  47. تم عبث ڈھونڈھتے پھرتے ہو کہاں رستہ تھاہم نے دیوار اٹھا دی ہے جہاں رستہ تھاEhsanul Haq Mazhar
  48. گرد پڑنے پہ بھی سرشار ہوا کرتا تھاایک رستے سے مجھے پیار ہوا کرتا تھاEhsanul Haq Mazhar
  49. وہ پریشانی سر دشت عدم ہے ہم کوباغ رضوان بھی مل جائے تو کم ہے ہم کوEhsanul Haq Mazhar
  50. راستے اور بھی جاتے ہیں ادھر کو لیکنوہ مرے دل سے گزرتا ہوا گھر جاتا ہےEhsanul Haq Mazhar