Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- میں نے سوچا ہی نہیں مر کے کدھر جاؤں گامیں تو مانند صبا یاں سے گزر جاؤں گاPanna Lal Noor
- گردن شیشہ جھکا دے مرے پیمانے پرسن برستا رہے ساقی ترے میخانے پرQadr Bilgrami
- کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہےکس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہےTabish Kamal
- اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئیپھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئیآسی غازی پوری
- اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقیحشر تک ورنہ رہے گی شب یلدا باقیعاشق اکبرآبادی
- گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیںدل کی سوئی ہوئی حسرت کو جگا دیتے ہیںعاشق اکبرآبادی
- وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیںہم یہاں عیش کا سامان کئے بیٹھے ہیںعاشق اکبرآبادی
- فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سےاور پھر سامنے آنے میں ہے گھونگھٹ ہم سےعاشق اکبرآبادی
- ذہن اور دل میں جو رہتی ہے چبھن کھل جائےآئے کاغذ پہ تو سلمائے سخن کھل جائےBadr Wasti
- اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میںمیں جو رویا تو کوئی ہنستا رہا تھا مجھ میںEjaz Obaid
- تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھیساتھ میرے چلی آئی وہ صدا کس کی تھیEjaz Obaid
- نازنینان جہاں شعبدہ گر پکے ہیںدیکھنے کو تو یہ بھولے ہیں مگر پکے ہیںعزیز حیدرآبادی
- وحشت دل کا عجب رنگ نظر آتا ہےعرصۂ حشر مجھے تنگ نظر آتا ہےعزیز حیدرآبادی
- نہ بدلنا تھا نہ بدلا دل شیدا اپنارنگ ہر وقت بدلتی رہی دنیا اپناعزیز حیدرآبادی
- حق کہا دار پہ جس نے وہ بشر کیسا تھاسچ بتاؤ مجھے وہ اہل نظر کیسا تھاBadr Jamali
- بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کیوسعتیں ان میں وہی لائے ہیں ویرانوں کیمختار صدیقی
- پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگازخم دیرینہ سے پھر خون ٹپکتا ہوگامختار صدیقی
- شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کےدل دھڑکتے ہی رہے آس میں انسانوں کےمختار صدیقی
- کی شب حشر مری شام جوانی تم نےچھیڑی کس دور کی کس وقت کہانی تم نےمختار صدیقی
- رات کی باتمختار صدیقی
- دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیںکچھ تجلی کی حضوری کا بھی یارا کر لیںمختار صدیقی
- آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیںمیرے احساس میں سو درد اتر جاتے ہیںSabeenSaif
- عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتاہر تعلق کو نبھایا تو نہیں جا سکتاSabeenSaif
- ظرف تو دیکھیے میرے دل شیدائی کاجام مے بن گیا اک مست خود آرائی کاشرف مجددی
- ہر جفا ان کی ہوئی ہم کو وفا سے بڑھ کراب نکالیں وہ کوئی ظلم جفا سے بڑھ کرشرف مجددی
- اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہےحسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہےVahshi Kanpuri
- وصل میں بگڑے بنے یار کے اکثر گیسوالجھے سلجھے مری تقدیر سے شب بھر گیسوامیر اللہ تسلیم
- اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہےاک چراغ اور سر راہ گزر باقی ہےHabab Hashmi
- جذبۂ شوق نے یوں داد وفا پائی ہےکھنچ کے منزل مرے قدموں میں چلی آئی ہےHabab Hashmi
- جب تری بزم سے اٹھ کر کوئی ناشاد آیااپنے انجام کا آغاز مجھے یاد آیاTahavvur Ali Zaidi
- بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہےدامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہےاشرف علی فغاں
- دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کاتیرے مجنوں کو کہاں پاس ہے رسوائی کااشرف علی فغاں
- عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہےایک میں آپ ہوں یا گوشۂ تنہائی ہےاشرف علی فغاں
- دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گادشت بے سمت میں اک ہو کا مقام آئے گاZafar Ghauri
- شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوںٹوٹا تارہ ہوں خلاؤں سے اتر آیا ہوںZafar Ghauri
- اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہےہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہےAah Sambhali
- جاگنا سائے میں اور دھوپ میں سونا اس کااس کے احساس سے ثابت تھا نہ ہونا اس کاAah Sambhali
- وہ تو ہے دشمن جاں داد وفا کیا دے گاجو کبھی زہر نہ دے پایا دوا کیا دے گاAah Sambhali
- دست قاتل میں کوئی تیغ نہ خنجر ہوتامرا سایہ جو مرے قد کے برابر ہوتاBadr-e-Alam Khan Azmi
- شور انگیز وہ خوں بار ہوا بھی آئےاور دبے پاؤں کبھی باد صبا بھی آئےBadr-e-Alam Khan Azmi
- کتنا بے چین ہے خاموش سمندر دیکھودل کی گہرائی میں اک روز اتر کر دیکھوBadr-e-Alam Khan Azmi
- کچھ صلہ ہی نہ ملا عشق میں جل جانے کاشمع نے لوٹ لیا سوز بھی پروانے کاباسط بھوپالی
- ہر طرف سوز کا انداز جداگانہ ہےمطمئن شمع ہے یا رقص میں پروانہ ہےباسط بھوپالی
- اتش حسن بھری ہے تیرے رخساروں میںکون منہ مارے دہکتے ہوئے انگاروں میںبوم میرٹھی
- اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کیتوڑ کے پھینک دیں سب کھڈیاں پاخانے کیبوم میرٹھی
- تم سمجھتے ہو زمانے کے لئے آتا تھامیں تمہیں شعر سنانے کے لئے آتا تھاEhsanul Haq Mazhar
- تم عبث ڈھونڈھتے پھرتے ہو کہاں رستہ تھاہم نے دیوار اٹھا دی ہے جہاں رستہ تھاEhsanul Haq Mazhar
- گرد پڑنے پہ بھی سرشار ہوا کرتا تھاایک رستے سے مجھے پیار ہوا کرتا تھاEhsanul Haq Mazhar
- وہ پریشانی سر دشت عدم ہے ہم کوباغ رضوان بھی مل جائے تو کم ہے ہم کوEhsanul Haq Mazhar
- راستے اور بھی جاتے ہیں ادھر کو لیکنوہ مرے دل سے گزرتا ہوا گھر جاتا ہےEhsanul Haq Mazhar