دست قاتل میں کوئی تیغ نہ خنجر ہوتا
Badr-e-Alam Khan Azmiدست قاتل میں کوئی تیغ نہ خنجر ہوتا
مرا سایہ جو مرے قد کے برابر ہوتا
میرا دشمن بھی مرے قد کے برابر ہوتا
کاش کاندھے پہ میرے ایک عدد سر ہوتا
یہ حقیقت ہے سرابوں میں مچلتیں لہریں
دشت اگر دشت نہ ہوتا تو سمندر ہوتا
اس کے خنجر سے لپٹ جاتے سنہرے الفاظ
حاکم شہر اگر ایک سخنور ہوتا
میں یوں بے کار نہ ہوتا کسی پتھر کی طرح
وقت کے پاس اگر تیشۂ آذر ہوتا
وہ تو کہیے کہ ہے پرواز تخیل سے پرے
ورنہ یزداں بھی کسی تیر کی زد پر ہوتا