گرد پڑنے پہ بھی سرشار ہوا کرتا تھا
Ehsanul Haq Mazharگرد پڑنے پہ بھی سرشار ہوا کرتا تھا
ایک رستے سے مجھے پیار ہوا کرتا تھا
ان دنوں وہ بھی سمجھتا تھا حقیقت مجھ کو
ان دنوں میں بھی اداکار ہوا کرتا تھا
ان دنوں غم بھی زیادہ نہیں ہوتے تھے مجھے
میرا کمرہ بھی ہوا دار ہوا کرتا تھا
میں کہ اظہار پہ شرمندہ نہیں تھا جب تک
اشک چہرے پہ نمودار ہوا کرتا تھا
تو ملا ہے تو کھلا مجھ پہ عجب راز کہ تو
بس مجھے ہجر میں درکار ہوا کرتا تھا
راستہ اب جو مرے پاؤں پڑا رہتا ہے
یہ کبھی راہ کی دیوار ہوا کرتا تھا
شہر کا شہر ہی ظالم کا مددگار تھا اور
شہر کا شہر عزادار ہوا کرتا تھا
جس کہانی کے تصور سے دہل جاتے ہیں لوگ
اس کا میں مرکزی کردار ہوا کرتا تھا