وہ پریشانی سر دشت عدم ہے ہم کو
Ehsanul Haq Mazharوہ پریشانی سر دشت عدم ہے ہم کو
باغ رضوان بھی مل جائے تو کم ہے ہم کو
اب بھی دل میں ترے ہونے کا گماں باقی ہے
ٹوٹتے بنتے ارادوں کی قسم ہے ہم کو
اس کو کہتے ہیں میاں زخم کا تازہ ہونا
وہ کسی اور سے بچھڑا ہے تو غم ہے ہم کو
تجھ سے یوں مانگتے ہیں تیرا بھرم رہ جائے
ورنہ ہر چیز محبت میں بہم ہے ہم کو
ترے آنے پہ کوئی رد عمل کیا دیتے
یہ خوشی اتنی زیادہ ہے نہ کم ہے ہم کو