اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہے

Vahshi Kanpuri

اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہے

حسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہے

رات اندھیری ہے بیاباں بھی ہے تنہائی ہے

حسرت دید خدا جانے کہاں لائی ہے

جلوۂ حسن بتاں بوئے گل و نغمہ سا

اتنے پردوں میں بھی اس شوخ کی رسوائی ہے

یا وہ دن تھے کہ ترا قرب تھا حاصل مجھ کو

یا بس اب یاد تری مونس تنہائی ہے

المدد ذوق فنا المدد اے جذبۂ عشق

میری فطرت مجھے پھر ہوش میں لے آئی ہے

جانے تو ہے کہ تری یاد مگر دل میں مرے

تجھ سے ملتی ہوئی اک شکل نظر آئی ہے

سیکڑوں بار مجھے آئنۂ ہستی میں

اپنی صورت تری صورت میں نظر آئی ہے

دیکھ لے بے پر و بالی پہ بھی پرواز مری

اتنا کہہ دے کہ گلستاں میں بہار آئی ہے

تب میں سمجھوں کہ ہوئی جوش جنوں کی تکمیل

خود وہ کہنے لگیں وحشیؔ مرا سودائی ہے