جب تری بزم سے اٹھ کر کوئی ناشاد آیا

Tahavvur Ali Zaidi

جب تری بزم سے اٹھ کر کوئی ناشاد آیا

اپنے انجام کا آغاز مجھے یاد آیا

میری بربادی میں کیا کوئی کسر باقی ہے

آپ کا حسن تغافل جو مجھے یاد آیا

خیر گزری کہ زباں پر نہ شکایت آئی

ذکر بیداد ترا جب ستم ایجاد آیا

آپ کہئے کہ ہے آخر یہ کہاں کا انصاف

جب گلستاں میں بہار آئی تو صیاد آیا

یہ مقدر ہے تجسس میں سکون دل کے

دیر میں پہنچے تو کعبے کا خدا یاد آیا

قصۂ رنج و الم آج سنانے زیدیؔ

تیری سرکار میں پہنچا تھا نہ کچھ یاد آیا