تم عبث ڈھونڈھتے پھرتے ہو کہاں رستہ تھا

Ehsanul Haq Mazhar

تم عبث ڈھونڈھتے پھرتے ہو کہاں رستہ تھا

ہم نے دیوار اٹھا دی ہے جہاں رستہ تھا

بس یہی سوچ کے جنگل کی طرف آ نکلے

صاحب خواب بتاتا ہے یہاں رستہ تھا

ہم ہی تقلید پرستوں سے الگ تھے ورنہ

جس جگہ بھیڑ تھی لوگوں کی وہاں رستہ تھا

میں ترے شہر تصور سے ابھی لوٹا ہوں

پیڑ سرسبز تھے خوشبو تھی جواں رستہ تھا

کربلا جاتے ہوئے راہ سے لوٹ آیا ہوں

بزدلی دیکھ مری نوحہ کناں رستہ تھا