اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہے
Habab Hashmiاب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہے
اک چراغ اور سر راہ گزر باقی ہے
وہ ہماری نہیں سنتا تو گلہ ہے کیسا
اب کہاں اپنی دعاؤں میں اثر باقی ہے
دل میں باقی ہیں فقط چند لہو کے قطرے
اب مرے پاس یہی زاد سفر باقی ہے
پھر بنا لیں گے اسی جا پہ نشیمن اپنا
آشیاں جس پہ تھا وہ شاخ شجر باقی ہے
معصیت اشک ندامت سے بھی دھل جاتی ہے
مطمئن ہوں کہ ابھی دیدۂ تر باقی ہے
جب وہ چاہے مجھے دو نیم کرے آ کے حبابؔ
دست قاتل میں یہی ایک ہنر باقی ہے