جذبۂ شوق نے یوں داد وفا پائی ہے

Habab Hashmi

جذبۂ شوق نے یوں داد وفا پائی ہے

کھنچ کے منزل مرے قدموں میں چلی آئی ہے

آج تک مٹ نہ سکی ماتھے سے سجدوں کی خلش

ایک مدت سے ترے در پہ جبیں سائی ہے

آئنہ توڑ کے ہاتھوں میں لئے بیٹھے ہیں

عبرت انگیز یہ انجام خود آرائی ہے

آپ آئیں نہ سہی مجھ کو بلائیں نہ سہی

آپ کی یاد رفیق شب تنہائی ہے

مہرباں وہ ہیں تو اغیار پریشاں کیوں ہیں

میری اور ان کی تو برسوں کی شناسائی ہے

کوئی نغمہ کوئی سنگیت کوئی گیت نہیں

زندگی درد میں ڈوبی ہوئی شہنائی ہے

جن کو انکار تھا اب وہ بھی تو کہتے ہیں حبابؔ

تیرے اشعار میں گہرائی ہے گیرائی ہے