میں نے سوچا ہی نہیں مر کے کدھر جاؤں گا

Panna Lal Noor

میں نے سوچا ہی نہیں مر کے کدھر جاؤں گا

میں تو مانند صبا یاں سے گزر جاؤں گا

سیر گلشن کا یہ انجام کہاں سوچا تھا

لے کے اس بزم سے اک زخم جگر جاؤں گا

جب سے مانوس ترے غم سے ہوا ہوں اے دوست

ایسا لگتا ہے کہ ہر غم سے گزر جاؤں گا

حسن کی آنچ نہ دو عشق زدہ دل کو مرے

نقش پوشیدہ کی مانند ابھر جاؤں گا

یہ نہ بھولیں مری ہستی کو مٹانے والے

میری فطرت ہے سنورنا میں سنور جاؤں گا