کتنا بے چین ہے خاموش سمندر دیکھو

Badr-e-Alam Khan Azmi

کتنا بے چین ہے خاموش سمندر دیکھو

دل کی گہرائی میں اک روز اتر کر دیکھو

قتل ہو جائے گا سورج تو لہو ہوگی سحر

دیکھنا ہے تو ابھی صبح کا منظر دیکھو

راز در راز ہے الفاظ کی گہرائی میں

میرے چہرے پہ جو تحریر ہے پڑھ کر دیکھو

خامشی گونج بھی ہے چیخ بھی ہے نغمہ بھی

تم کسی پیڑ کو نزدیک سے چھو کر دیکھو

کیسے پتھر کا جگر چیر کے اٹھتی ہے حیات

کسی چٹان تلے بیج دبا کر دیکھو

یوں تو چہرے پہ سجا رکھی ہے اک بزم طرب

کتنے مقتل ہیں مرے سینے کے اندر دیکھو

کتنی دل کش ہے دل افروز ہے دنیائے دنی

اپنی آنکھوں سے ذرا ہاتھ ہٹا کر دیکھو

اس عقیدے نے لیا قیصر و کسریٰ سے خراج

موت کا وقت ازل سے ہے مقرر دیکھو

تابکے شوکت اجداد پہ یہ ناز و غرور

خواب غفلت سے اٹھو وقت کے تیور دیکھو

آسماں چیر کے جائے گا ستاروں سے پرے

تم بھی اک بار چلا کر ذرا پتھر دیکھو

مار ڈالے گی گلا گھونٹ کے صدیوں کی گھٹن

کھڑکیاں کھول دو کچھ دیر تو باہر دیکھو

دیکھ لینا پس قاتل بھی کوئی ہوگا ضرور

صرف قاتل ہی چلاتا نہیں خنجر دیکھو

سخت سے سخت ہوا جاتا ہے چہرہ اس کا

زندگی کا یہ بدلتا ہوا پیکر دیکھو