شور انگیز وہ خوں بار ہوا بھی آئے

Badr-e-Alam Khan Azmi

شور انگیز وہ خوں بار ہوا بھی آئے

اور دبے پاؤں کبھی باد صبا بھی آئے

زلزلے نے جسے مسمار کیا تھا یارو

لوگ نفرت کی وہ دیوار اٹھا بھی آئے

جانے خوابیدہ کہ بیدار ہے منصف کا ضمیر

ہم تو انصاف کی زنجیر ہلا بھی آئے

میرے افکار ہیں ہر چند وفا کے پابند

کچھ خیالات مگر تیرے سوا بھی آئے

تیری خاطر نہ کبھی میں نے پلٹ کے دیکھا

راہ میں گرچہ کئی کوہ ندا بھی آئے

لوگ ہو سکتے نہیں خواب گراں سے بیدار

اب جگانے کے لیے چاہے خدا بھی آئے