تم سمجھتے ہو زمانے کے لئے آتا تھا
Ehsanul Haq Mazharتم سمجھتے ہو زمانے کے لئے آتا تھا
میں تمہیں شعر سنانے کے لئے آتا تھا
پھر مصنف نے بلا وجہ مجھے مار دیا
میں کہانی میں ہنسانے کے لئے آتا تھا
رفتہ رفتہ مجھے معلوم ہوا دھیان اس کا
سانپ تھا اور خزانے کے لئے آتا تھا
میرے بچوں کو یقیں کون دلائے کہ یہاں
چاند جھیلوں میں نہانے کے لئے آتا تھا
روٹھ جاتا تھا میں گاؤں میں بھی یوں ہی مظہرؔ
پر وہاں گاؤں منانے کے لئے آتا تھا