Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھبات کر لیتے ہیں ہم سے چاند تارے کچھ نہ کچھYasmeen Habeeb
- ہر قدم پر اک نیا دکھ خیر خواہوں سے ملاکب ہمیں کوئی تحفظ ان پناہوں سے ملاZafar Akbarabadi
- شوق جب بھی بندگی کا رہنما ہوتا نہیںزندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیںIbn-e-Mufti
- رہنے والوں کو ترے کوچے کے یہ کیا ہو گیامیرے آتے ہی یہاں ہنگامہ برپا ہو گیامیر تسکین دہلوی
- شمع نازاں ہے فقط سر سے بھڑک جانے میں آگپھونک دے سارا جہاں ہے گی وہ پروانے میں آگمرزا علی لطف
- رحم کر ظالم مرا حال پریشاں دیکھ کرکون ہنستا ہے کسی کو غم میں گریاں دیکھ کرNabi Bakhsh Nayab
- لے گیا دل کون میرا سو بشر کے سامنےکس کی صورت پھرتی ہے یا رب نظر کے سامنےNabi Bakhsh Nayab
- تن بدن سے جان ہی تو صرف اڑا لے جائے گیزندگی سے موت آ کر اور کیا لے جائے گیNadim Balkhi
- رنگ ظلم دست وحشت جب نمایاں ہو گیامنظر قوس قزح چاک گریباں ہو گیاQadr Oraizi
- اپنی خوش ذوقی پہ اک الزام ہو کر رہ گئےنام والے تھے برائے نام ہو کر رہ گئےRabab Rashidi
- تجھ سے جب تک اس طرح اپنی شناسائی نہ تھیاپنے گھر جیسی تو صحرا میں بھی تنہائی نہ تھیRabab Rashidi
- دل کو تسکیں ہو گئی ہے سامنے آنے کے بعدجان جائے گی ہماری آپ کے جانے کے بعدراجہ نوشاد علی خان
- کس طرح پر ایسے بد خو سے صفائی کیجیےجس کی طینت میں یہی ہو کج ادائی کیجیےرجب علی بیگ سرور
- جو نہیں ممکن کبھی ممکن وہ ہونا چاہیئےوہ نہیں میرا مجھے تو اس کا ہونا چاہیئےUrooj Zehra Zaidi
- کفر کو ایماں بنا دے زندگی اے زندگیفرق این و آں مٹا دے زندگی اے زندگیUrooj Zehra Zaidi
- شام وعدہ گاہ رونا گاہ ہنسنا دیکھتےآپ تو آئے نہیں ورنہ تماشا دیکھتےHabeeb Jaunpuri
- یاد ہے آغاز الفت کا زمانہ یاد ہےڈال کر بانہوں میں بانہیں مسکرانا یاد ہےHabeeb Jaunpuri
- اپنے سب زخموں پہ ہم سوئے تھے آنسو باندھ کرآ گئیں پروائیاں پیروں میں گھنگرو باندھ کرKaifi Sanbhali
- سر ملا ہے عشق کا سودا سمانے کے لئےآنکھیں دیں انسان کو آنسو بہانے کے لئےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- آنکھ والے سب تھے لیکن دیدہ ور کوئی نہ تھاکارواں بھٹکا ہوا تھا راہ بر کوئی نہ تھاNadim Ashrafi Burhanpuri
- درد پر پیار آیا چوٹ بھی اچھی لگیآج پہلی بار مجھ کو زندگی اچھی لگیNadim Ashrafi Burhanpuri
- رنج و غم کی جب مرے دل میں فراوانی نہ تھیجی رہا تھا میں مگر جینے میں آسانی نہ تھیNadim Ashrafi Burhanpuri
- کہہ رہی ہے ساری دنیا تیرا دیوانہ مجھےتیری نظروں نے بنا ڈالا ہے افسانہ مجھےQaisar Nizami
- ہو گئی سیر جہاں کنج جہاں تک آ گئےاپنے گھر سے نکلے اپنے آشیاں تک آ گئےV. Sudhakar Rao
- آزمائش میں کٹی کچھ امتحانوں میں رہیزندگی کن راستوں میں کن ٹھکانوں میں رہیAanand Saroop Anjum
- ہو گئے آنگن جدا اور راستے بھی بٹ گئےکیا ہوا یہ لوگ کیوں اک دوسرے سے کٹ گئےAanand Saroop Anjum
- آ گیا ایثار میرے حلقۂ احباب میںپھر کسی شعلے نے پائی ہے نمو برفاب میںEjaz Asif
- روشنی کو تیرگی کا قہر بن کر لے گیاآنکھ میں محفوظ تھے جتنے بھی منظر لے گیاEjaz Asif
- اپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیاچھین لی چھت اور سر پر آسماں رہنے دیاIbrat Machlishahri
- اپنی غربت کی کہانی ہم سنائیں کس طرحرات پھر بچہ ہمارا روتے روتے سو گیاIbrat Machlishahri
- آغا حشر کاشمیریمحمد صادق ضیا
- کوئی یہ اقبالؔ سے جا کر ذرا پوچھے ضیاؔمدتوں سے کیوں تری بانگ درا خاموش ہےمحمد صادق ضیا
- خامشی کے بطن سے یہ گفتنی پیدا ہوئیمیں بظاہر چپ ہوا اور شاعری پیدا ہوئیNaeem Sameer
- آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھماہ کو تولے گا شاید اپنی رعنائی کے ساتھRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- دیکھ اب تو میرا دشمن بھی کہے کیا بات ہےاب تو میرے پاس آ کر پوچھ لے کیا بات ہےSaa’in Alig
- اس طرح مرجھا گئے کچھ پھول چہرے رات کودھوپ آنگن میں اتر آئی ہو جیسے رات کوYaqoob Parwaz
- دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کرچیز یہ ایسی نہیں جڑ جائے گی جو پھوٹ کرفروغ حیدرآبادی
- کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگیزندگی سی زندگی ہے یہ ہماری زندگیغلام بھیک نیرنگ
- دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کرسخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کرشیخ علی بخش بیمار
- کھینچ کر تلوار جب ترک ستم گر رہ گیاہائے رے شوق شہادت میں تڑپ کر رہ گیاانوری جہاں بیگم حجاب
- عشق پر دانہ نہیں محتاج تحریک جمالجلنے والا جل بجھے گا شمع سوزاں دیکھ کرانوری جہاں بیگم حجاب
- ان کے ملنے کا بظاہر تو یقیں کوئی نہیںوہ اگر چاہیں کوئی شک ہے نہیں کوئی نہیںDamodar Thakur Zaki
- اب شکایت کیا کریں گزرے ہوئے طوفان سےروشنی آنے لگی ہے پھر سے روشن دان سےDeedar Bastawi
- ٹھوکریں ووٹوں کے بدلے میں اناڑی لے گیامال و دولت سب سیاست کا کھلاڑی لے گیاDeedar Bastawi
- کیوں نہ تڑپا دے جہاں کو سوختہ جانوں کی باتمضطرب کرتی ہے انسانوں کو انسانوں کی باتIbrahim Faiz
- رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرفآنے والے آ رہے ہیں اپنی منزل کی طرفمخمور دہلوی
- تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگیجسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیںمخمور دہلوی
- مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہمپھر بھلا دل کے نکالیں کس طرح ارمان ہمشیر محمد خاں ایمان
- مجھ سے ملنے میرے خیمے میں چلی آتی ہے گرددشت وحشت میں فقط میری ملاقاتی ہے گردTabassum Anwar
- راز غم افشا کروں یا راز رکھوں راز میںحکم ہو تو کچھ سناؤں آپ کی آواز میںUma Shankar Shadan Gwaliori