آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھ

Yasmeen Habeeb

آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھ

بات کر لیتے ہیں ہم سے چاند تارے کچھ نہ کچھ

ایک کافر کی مسیحائی کے دست فیض سے

مل رہے ہیں زخم کے دونوں کنارے کچھ نہ کچھ

رنگ ہر دیمک زدہ تصویر میں بھرتے رہے

اک تسلی کے لیے ہجراں کے مارے کچھ نہ کچھ

اک پرانا خط کئی پھولوں کی سوکھی پتیاں

اس بیاض زندگی میں ہیں سہارے کچھ نہ کچھ

ہے وہی قامت وہی مانوس سے نقش و نگار

ایسا لگتا ہے کبھی وہ تھے ہمارے کچھ نہ کچھ

وقت کے بے رحم سناٹوں میں بہتی زندگی

ہے صدا کی منتظر کوئی پکارے کچھ نہ کچھ